# عاجز بادشاہ

> מקור: https://rabenu.app/books/ur-2/1/

عاجز بادشاہ

**کہا نی ایک بادشاہ تھا جس کے پاس عقلمندآدمی تھا۔ بادشاہ نے اپنے عقلمند آدمی سے کہا یہاں ایک بادشاہ ہے جو خود کو طاقتور عظیم اور سچااور نیک شخص قرار دیتا ہے(جو سچا ہے وہ غرور نہیں کرتا)۔**

میں جانتا ہو کہ وہ طاقتور ہے کیونکہ اس کی بادشاہی سمندر سے گھیری ہوئی ہے ۔ اور سمندر پر بحری جہاز ہیں جو توپوں کو لئے جاتے ہیں اور کسی کو بھی قریب نہیں آنے دیتے اور ساحل سمندر کے سا تھ ملک کے ارد گرد دلدل ہے ۔

اور یہاں صرف ایک ہی تنگ راستہ ہے اور اس سے صرف ایک ہی شخص گزر سکتا ہے۔وہاں توپ بھی ہے اور وہ اُس کی طرف اشارہ کرتی ہے جو حملہ کرنے آتے ہیں۔ سو یہ نا ممکن ہے کہ اس کے قریب جا یا جائے۔

لیکن میں یہ نہیں جا نتا کہ وہ کیوں اپنے آپ کو ایک سچا اور عاجز شخص پیش کر تا ہے ۔ میں یہ چا ہتا ہوں کہ ٓاپ مجھے اس بادشاہ کی تصویر لا کر دئیں اس بادشاہ نے تمام دوسرے بادشاہوں کی تصویروں پر قبصہ کیا ہوا ہے (اس کی تصویر جو کہ اپنے آپ کو طاقتور سمجھتا ہے )۔ لیکن کوئی بھی بادشاہ اس بادشاہ کی تصویر کو اپنے قبضے میں نہیں کر سکا ۔کیو نکہ وہ سب لوگوں سے الگ ہوگیا تھا وہ پردے کے پیچھے بیٹھارہتاہے۔

یہاں تک کہ اپنے وطن کے لوگوں سے بھی ۔

لہذا وہ بزرگ اُس ملک کو گیا اُسے یہ احساس ہوا کہ اسے ضرور ہی اس ملک کے جو ہر کو در یا فت کر نا ہو گا۔اور کس طرح سے کو ئی کسی ملک کا جو ہر تلاش کر سکتا ہے ؟

لہذا یہ ایک مزاق ہے (لطیفہ)ہے جب کوئی کسی چیز کا جوہر جاننا چاہتا ہے تو اُسے یہ تلاش کر نا چاہیے کہ اس کے بارے میں کیا مزاق کیا جا تا ہے ۔

کیو نکہ یہاں بہت سے قسم کے مزاق ہے اور اسکا بین الا قوامی مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو بھی کسی کے لفظ کے زریعے تکلیف دینا ۔

لیکن جب ایک دوسرے کے اظہار کو نقصان پہنچتا ہے تو ’’ میں تو صر ف مزاق کر رہا تھا ‘‘! جیسا کہ لکھا ہے کہ ’’میں صرف مزاق کر رہا ہوں ‘‘(امثال 26:19) ا ( یہ ایسا ہے جیسے کہ کسی کہ دل میں تیر ماردیں اور پھر کہے کہ میں تو مزاق کر رہا تھا)۔ایک آدمی جو مزاق کرتا ہے وہ اپنے دوست کا لفظوں سے دل دکھا تا ہے ۔اس طرح کے اور کئی قسم کے مزاق ہیں۔

اورہر ملک میں کچھ بڑے صوبے ہو تے ہیں( اور ایک بڑا صوبہ سب صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے اور ان کی نما ئند گی کرتا ہے ) اس بڑے صوبے میں ایک بڑا شہر ہے ۔ اور یہ شہر تمام شہروں کی نما ئند گی کر تا ہے ۔ اس بڑے شہر میں ایک گھر ہے اور یہ گھر شہر کے تما م گھروں کی نما ئند گی کرتا ہے ۔یہ گھر تمام ملکوں کی نما ئند گی کرتا ہے اور وہاں ایک آدمی ہے جو تمام گھروں کی نما ئند گی کر تا ہے ۔

وہاں ایک وہی ہے جو تمام مصیبتوں ،، لطیفوں ،، اورمزاق کو ملک میں ترتیب دیتا ہے ۔

بزرگ اپنے ساتھ کافی سارا پیسہ لے گیا جب وہ ملک کو گیا تو اُس نے دیکھا کہ لوگ تما م قسم کے مزاق اور لطیفے کر رہے ہیں ۔

وہ مزاق سے یہ سمجھ گیا کہ پورا ملک شروع سے آخر تک دروغ گوئی سے بھرا ہوا ہے ۔ اُس کو اُنہیں دیکھے کر یہ احساس ہواکہ لوگ مزاق سے ایک دوسرے کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور کاروبار میں ایک دوسرے کو دھوکا بھی دیں رہے ہیں۔

اور یہ بھی کہ وہ کیسے اور کب عدالت میں جاتے ہیں ۔یہاں کچھ بھی نہیں ہے سوائے بیو قو فی کے اس لئے کہ وہ رشوت قبول کرتے ہیں ۔اور یہاں تک وہ سب سے اُونچی عدالت میں بھی جاتے ہیں مگر وہاں صرف رشوت ہی لئی جا تی ہے ۔اور لوگ ان تمام چیزوں کی مضحکہ انگیز نقل اُتار رہے تھے ۔

بزرگ کو ان سب چیزوں سے یہ سمجھ میں آیا کہ تمام ملک بیوقوفی اور دھوکہ سے بھرا ہوا ہے ۔ مکمل طور پر سچائی کی کمی سے سو اُس نے ملک میں کچھ کاروبارئی معاملات طے کیے اور خود کو بیوقوف ہونے کی اجازت دی ۔

وہ عدالتوں میں گیا اور وہ سب رشوت اور بیوقوفی سے بھرے ہوئے تھے ایک دن اُس نے خود سے ہی اُن کو رشوت دی ۔مگر اگلے دن اُنہوں نے اُسے نظر انداز کیا۔

سو وہ بڑی عدالت میں گیا مگر یہ بھی ساری بیوقوفی سے بھری ہوئی تھی ۔ آخر کار وہ سب سے بڑی عدالت میں گیا لیکن یہ بھی سب بیوقوفی اور رشوت کے ساتھ بھری ہوئی تھی آخر میں وہ خود سے ہی بادشاہ کے پاس گیا۔اب جب وہ بادشاہ کے سامنے پہنچا تو اُس نے کہا ’’آپ کون ہو‘‘؟بادشاہو؟تمام ملک شروع سے آخر تک بیوقوفی اوررشوت سے بھرا ہواہے ۔

یہاں اس میں کوئی بھی سچائی نہیں ہے بزرگ نے بادشاہ کو تمام بیوقوفی بتانا شروع کی جو اس ملک میں تھی ۔یہ سن کر بادشاہ نے اپنا کان پردہ کی طرف جھکایا تاکہ قریب سے سُن سکے وہ حیران تھا کہ کوئی ملک میں موجود تمام بیوقوفی سے واقف ہوگیا ہے ۔

وزراء بزرگ کے الفاظ سُن کر اس پر غضہ میں آگے تھے ۔ مگر وہ تمام بیو قو فی کے بارے میں جو ملک میں مو جود تھی مسلسل بتا رہا تھا ۔

تب بزرگ نے کہا کہ.. ایسا لگتا ہے کہ بادشاہ بھی اُنہیں پسند کرتاہے وہ بھی تمام ملک کی طرح بیوقوفی کا خوب مزہ لیتا ہے ۔لیکن میں دیکھ سکتا ہو ں کہ آپ ایک سچے شخص ہو۔اسلئے آپ ان سب سے فاصلے پر رہتے ہو ۔

آپ اس تمام بیو قو فی کو برداشت نہیں کر سکتے جو ملک میں موجود ہے اور وہ مسلسل بادشاہ کی بڑی تعریف کرتا رہا۔اب بادشاہ انتہائی عاجز ہو گیا تھا خاص کر تب جب اس کی عظمت ظاہر ہوئی تو وہ عاجز بن گیا ۔

یہ بھی عا جز ہونے کا ایک راستہ ہے کہ جب ا ن کی زیادہ تعر یف اور تمجید کی جا تی ہے تو یہ چھوٹے اور عا جز بن جا تے ہیں ۔

لہذا بزرگ کے حساب کے مطابق بادشاہ کے لئے عظیم تعریف بادشاہ کو بہت عاجز اور چھوٹا بنا دیتی ہے لفظی طور پر یہاں تک کہ وہ کچھ نہیں رہتا ۔بادشاہ خود کو روک نہیں سکا لہٰذا اُسنے اس بزرگ کو دیکھنے کے لئے پردہ کھول دیا۔

یہ کون ہے جو سب کچھ جانتاہے اور سمجھتا ہے؟اور اس طرح اسکا چہرہ اس پر ظاہر ہو گیا بزرگ نے اسے دیکھ لیا اور اس بادشاہ کی تصویر لے لئی اور با دشا ہ کے پاس لئے گئے ۔

صیون کی راہیں ماتم کرتی ہے (نوحہ 1:4 ) صیون صیہونی(زیونیم )کو یہ اشارہ دیتا ہے (جو نمائندگی کرتاہے)تمام ملکوں کی کہ وہ سب ایک جگہ میں شامل ہوں۔(حزقی ایل 39:15) اور جب وہ ملک میں سے گذریں اور اُن میں سے کوئی کسی آدمی کی ہڈی دیکھے تو اس کے پاس ایک نشان کھڑاکرے گا جب تک دفن کرنے والے جمیت جوج کی وادی میں اُسے دفن نہ کریں۔اور یہ اندر کی طرف اشارہ دیتا ہے۔ْ ْْْْْخازے زیون کریبات موداینوں(ہماری عید گاہ صیون پر نظر کرو) یسعیاہ33:20۔میت ذاخیک جس کا مخفف(ہنسی) ہے کیونکہ تمام صیہونیوں کو یہاں جمع کیا جا تا ہے۔اگر کسی کو بھی کچھ جاننے کی ضرورت ہے خواہ وہ کاروباری معاہدہ کرناچاہے یا کچھ بھی نہ کرناچاہے یہاں وہ جاننے کے قابل ہو جائے گا۔اُسکی مر ضی سے یہ جلد ہمارے دنوں میں دوبارہ تعمیر ہو آمین ۔

عزیز قارئین صرف دیکھو اور نظر کرو کہ کتنے گہرے تصورات ہیں۔خوش قسمت ہے وہ جو صبر رکھتا ہے کیونکہ وہ ان کہانیوں کے کچھ رازوں کے بارے میں علم حاصل کرے گا اس لئے کہ اسکے بارے میں کبھی بھی کسی نے قدیم زمانے سے نہیں سُنناہو گا۔

اور جو ان تمام آیتوں کو جاننے گا اور علامات کو جوکہانیوں کے بعد کچھ دیں جاتے ہیں صرف علامات اوراشارے ہی تاکہ وہ خالی کہا نیا ں نہ لگیں جیسا کہ ہم نے ربی کے مقدس منُہ سے سُنناتھا۔

اُس نے ان آیات سے صرف ایک ہی نقطہ نظر ظاہر کیا ہے جو کہ کہانیوں کے راز سے مطلق ہے سو ہم جانتے ہیں کہ یہ خالی کہانیاں نہیں ہیں۔لیکن کہانیوں کا حقیقی رز ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔گہرائی گہرائی اس کو کون سمجھ سکتا ہے ۔۔
