# بادشاہ اور شہنشاہ کی کہانی

> מקור: https://rabenu.app/books/ur-3/1/

بادشاہ اور شہنشاہ کی کہانی

**ایک مرتبہ کا زکر ہے کہ ایک شہنشاہ تھا ہے ۔ اُس کی کوئی بھی اولاد نہ تھی اور ایسا ہی ایک بادشاہ بھی تھا اُس کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی۔**

اور وہ شہنشاہ دنیا بھر میں اِس مقصد کے لئے گومتا تھا کہ اُسے کوئی مشورہ دے یا علاج بتائے کہ اُس کی اولاد کیسے ہو۔ اور وہ بادشاہ بھی

شہنشاہ کی طرح کرتا تھا اور ایسا ہوُا کہ دونوں ایک ہی سرائے میں ٹھہرگئے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے شہنشاہ نے بادشاہ کو پہچان لیا کہ یہ آدمی اپنے اندر شاہی اثر رکھتا ہے اور شہنشاہ نے بادشاہ سے پوچھا کیا تم بادشاہ ہو ؟ اور بادشاہ نے اِس بات کا اعتراف کیا اور کہ میں بادشاہ ہوں بادشاہ نے بھی پہچان لیا کہ یہ آدمی شاہی انداز کا دکھائی دیتا ہے ۔اور شہنشاہ نے بھی اِس بات کا اعتراف کیا اور اُنہوں نے ایک دوسرے کو بتایا کہ ہم دونوں اولاد پانے کے لئے اِس سفر پر نِکلے ہیں اور اُنہوں نے ایک دوسرے سے معائدہ کیا کہ جب وہ اپنے اپنے گھروں کو جائیں گے او ر اگر اُن دونوں کی بیویوں نے لڑکا اور لڑکی کو جنم دیا تو وہ اِن دونوں کی شادی کروائیں گیں۔ اور وہ شہنشاہ اپنے گھر کو گیا تو اُس کی بیٹی پیدا ہوئی ۔ وہ بادشاہ بھی اپنے گھر گیا تو اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اور وہ بادشاہ اور شہنشاہ دونوں اِس بات کو بھول گئے کہ اِن دونوں نے اپنے بچوں کی آپس میں شادہی کروانی تھی۔

شہنشاہ نے اپنی بیٹی کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا اور بادشاہ نے بھی اپنے بیٹے کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا ۔ وہ دونوں لڑکا اور لڑکی ایک ہی اُستاد کے پاس پڑھنے لگے ۔ اور اُن دونوں کے بیچ گہری محبت شروع ہوگئی اور اُن دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک دوسرے سے شادی کریں گے۔ اور بادشاہ کے بیٹے نے شہنشاہ کی بیٹی کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا دی بس دونوں نے شادی کرلی ۔

اور بعد میں ایسا ہوا کہ شہنشاہ نے اپنی بیٹی کے لئے پیغام بھیجا کہ وہ گھر واپس آئے ۔ اور بادشاہ نے بھی اپنے بیٹے کو گھر واپس بُلایا ۔ اور لوگ شہنشاہ کی بیٹی کو شادی کیلئے پیشکش کرنے لگے ۔ مگر وہ کسی کی بھی پیشکش قبول نہیں کرتی تھی کیونکہ اُس نے بادشاہ کے بیٹے سے شادی کرلی تھی اور بادشاہ کا بیٹا اُس کیلئے بُہت انتظار کررہا تھا اور شہنشاہ کی بیٹی بھی ہمیشہ اُداس رہتی تھی۔

اور اُس لڑکی کا باپ شہنشاہ اپنی بیٹی کو ساتھ ساتھ لیکر جاتا تھا کہ اُسے اُسکی بادشاہت کی عظمت دکھائے مگر وہ پھر بھی ہمیشہ اُداس ہی رہتی تھی۔ اور بادشاہ کا بیٹا بھی شہنشاہ کی بیٹی کے انتظار میں تڑپتا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ بیمار پڑ گیا ۔ اور جب بھی اُنہوں نے اُس لڑکے سے اُسکے بیمار ہونے کی وجہ پوچھی تو اُس نے اُنہیں کچھُ نہ بتا ۔ تب اُنہوں نے اُس لڑکے کے خادم سے پوچھا شاید تم اِس بات کو جانتے ہوگے اور اُس کے خادم نے جواب دیا ہاں میں جانتا ہوں جب یہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے کیلئے گیا تھا تو میں اِس کے ساتھ تھا اور اِس کی خدمت بھی کرتا تھا ۔اور اُس کے خادم نے اُنہیں تمام کہانی بتائی تب بادشاہ کو یاد آیا کہ اِس نے کافی عرصہ پہلے شہنشاہ سے اِس بات کا وعدہ کیا تھا ۔ لہٰذا بادشاہ نے شہنشاہ کو شادی کی تیاری کیلئے خط لکھا کیونکہ اِن دونوں نے بُہت سال پہلے اپنے بچوں کی شادی کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن شہنشاہ اب ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ مگر پھر بھی اُس نے اِس بات سے اِنکار نہیں کیا تھا سو شہنشاہ نے جواب دیا کہ بادشاہ اپنے بیٹے کو بھیجے ۔ تاکہ شہنشاہ یہ دیکھے کہ اِس کا بیٹا ملک پر حکومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ تب وہ اپنی بیٹی اِس لڑکے کو شادی کے لئے دے دے گا۔ سو بادشاہ نے اپنے بیٹے کو بھیجا ۔ اور جب بادشاہ کا بیٹا آیا تو شہنشاہ نے اِسے ایک کمرے میں بیٹھا دیااور اِسے ریاستی کاروبار کے دستاویزات دئیے۔ کہ دیکھے کہ وہ ملک پر حکومت کرسکتا ہے کہ نہیں؟ اور بادشاہ کا بیٹا شہنشاہ کی بیٹی کو دیکھنے کیلئے بُہت بے صبری سے انتظار کر رہا تھا ۔ لیکن وہ اُسے دیکھ نہ سکا۔ ایک مرتبہ یہ ہوا کہ بادشاہ کا بیٹا ایک آئنہ دار دیوار کے قریب سے گُزر رہا تھا تو اچانک اِس کی نظر شہنشاہ کی بیٹی پر پڑھ گئی جب اُس لڑکے نے اُس لڑکی کو دیکھا تو وہ چکرا گیاتو وہ لڑکی اُس کے پاس آئی اِسے ہلایا اور ہوش میں لایااور بتایا کہ وہ دوسری شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ اِس لڑکے ساتھ بُہت مضبوطی سے جُڑ گئی تھی ۔ پھر اُس لڑکے نے اُس لڑکی سے کہا کہ اَب ہم کیا کریں گے ۔

کیونکہ تمہارا باپ ہماری شادی نہیں کروانا چاہتا ہے ۔ لڑکی نے کہا کہ خیر کوئی بات نہیں دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اِس کے بعد دونوں نے مشورہ کیا کہ وہ دونوں سمندر کے زریعے باہر نکل جائیں گے ۔ اُنہوں نے ایک کشتی کرائے پر لی اور سمندر کے زریعہ روانہ ہوگئے ۔ اور اُن دونوں نے سمندر کا سفر تہہ کیا کچھُ وقت کے بعد وہ ساحلِ سمندر تک پہنچ گئے۔ اور وہاں ایک جنگل تھا سو وہ دونوں وہاں گئے ۔ اور شہنشاہ کی بیٹی نے انگوٹھی لی اور اُس لڑکے کو دے دی اِس کے بعدوہ سونے کیلئے لیٹ گئی بعد میں ایسا ہوا کہ بادشاہ کے بیٹے نے دیکھا کہ وہ جلدی ہی اُٹھ جاتی ہے ۔ سو اُس لڑکے نے وہ انگوٹھی اُس لڑکی کے قریب رکھ دی ۔ اور وہ دونوں اُٹھے اور کشتی پر چلے گئے ۔

پھر اُس لڑکی کو یاد آیا کہ وہ اپنی انگوٹھی وہاں ہی بھُول آئی ہے ۔ سو اُس نے اُس لڑکے کو انگوٹھی لانے کیلئے بھیجا سو وہ لڑکا وہاں گیا پر وہ انگوٹھی اُسے نہ ملی ۔ اُس نے اُس انگوٹھی کو دوسری جگہوں پر بھی تلاش کیا پر نہ پائی ۔ تب وہ اُس انگوٹھی کو ہر جگہ تلاش کرتا رہا ۔ اور وہ انگوٹھی کو تلاش کرتے کرتے اپنا راستہ بھُول گیا تھا اور اَب وہ دوبارہ واپس نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہ کھو گیا تھا ۔ اور وہ لڑکی بھی اُس لڑکے کو تلاش کرنے گئی مگر وہ بھی اپنا راستہ بھُول گئی اِس کے علاوہ وہ لڑکا اور بھی زیادہ چلتا رہا جس کی وجہ سے اُس کا راستہ اور بھی زیادہ کھو گیا تھا اِس کے بعد اُس نے ایک راستہ دیکھا اور ایک آبادی والے علاقہ تک پہنچا اور وہاں وہ کچھُ بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ لہٰذا وہ وہا ں ایک نوکر بن گیا ۔ اور وہ لڑکی بھی زیادہ سفر کرنے کی وجہ سے اپنا راستہ کھو بیٹھی تھی لڑکی نے فیصلہ کیاکہ وہ سمندر کے کنارے ہی رہے گی ۔ اور وہاں پھلوں کے درخت تھے ۔ سو اُس لڑکی نے وہاں پر قیام کیا دن کے دوران وہ ساحلِ سمندر پر چلی جاتی تھی ۔ یہ سوچ کر کہ شاید کوئی مسافر یہاں تلاش کرتے کرتے پہنچ جائے اور وہ پھلوں کے زریعے زندہ رہتی تھی ۔ اور رات کے وقت وہ ایک درخت پر چڑھ جاتی تھی تاکہ وہ جنگلی جانور سے محفوظ رہے۔

اور ایک دن آیا کہ وہاں ایک بُہت ہی بڑا سوداگر تھا ۔ جو پوری دُنیا میں تجارت کرتا تھا اُس کا صرف ایک ہی بیٹا تھا ۔ اور وہ سوداگر بُہت بوڑھا تھا ۔ ایک دن اُس کے بیٹے نے اُس سے کہا کہ بابا آپ بُہت عمر رسیدہ ہو میں اِبھی جوان ہوں۔ آپ کے مُنیم مجھ پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور آپ کے مرنے کے بعد میں اکیلا رہ جاؤں گا اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مُجھے کیا کرنا ہوگا۔ لہٰذا مجھے ایک کشتی دیں اور ساتھ میں پیسے بھی میں سمندر پر جاؤں گا تاکہ مجھے سوداگری کرنے کا تجربہ ہوسکے ۔ سو اُس کے باپ نے اُسے ایک کشتی دی اور بُہت سا سامان بھی دیا۔ اور وہ دوسرے مُلک کو چلاگیا ۔ اور وہاں جاکر سوداگری کرنا شروع ہوگیا۔ وہ بُہت کامیاب ہوا اور اِیسا ہوا کہ جب وہ سمندر میں تھا تو اُس نے درختوں پر نظر کی جہاں شہنشاہ کی بیٹی رہتی تھی اُس سوداگر نے یہ سوچا کہ شاید یہاں آبادی والا علاقہ ہو ۔ اور اُس نے وہاں جانا چاہا جب وہ اُس کے قریب پہنچا تو اُس نے غور کیا کہ یہاں صرف درخت ہیں اور کچھُ بھی نہیں تو اُس نے وہاں سے جانا چاہا۔

پھر ایک دم سے یہ ہوا کہ اُس سوداگر نے سمندر کی طرف نظر کی اور اُس نے وہاں ایک درخت دیکھا اور درخت کے اُوپر کسی انسان کو بیٹھے دیکھا ۔ اُس سوداگر کو لگا کہ شاید میں غلط دیکھ رہا ہوں سو اُس نے اپنے ساتھ والے آدمی سے پوچھا اور اُس نے دیکھا تو اُسے بھی یہ انسان کی طرح نظر آیا۔

سو اُن دونوں نے آگے جانے کا فیصلہ کیا اور اُن دونوں نے ایک آدمی کو وہاں چھوٹی سی کشتی کے ساتھ اپنے سے پہلے آگے بھیجا ۔ وہ دونوں اُس پیغمبر کو جس کو اُنہوں نے سمندر میں بھیجا تھا ۔ ہدایت کرنے لگے۔ اور اُسے بتا رہے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ سمندر میں اِدھر اُدھر آوارہ پھرے بلکہ سیدھا اُس درخت کے پاس جائے اور جب وہ پیغمبر جو اُن سے پہلے آگے گیا تھا درخت کے پاس پہنچا تو اُس نے درخت پر بیٹھے ہوئے انسان کو دیکھا تو اُنہیں بتایا ۔ لہٰذا (سوداگر کا بیٹا وہاں گیا ) اور اُس نے( شہنشاہ کی بیٹی کو دیکھا )تو اُس لڑکی سے کہا کہ نیچے اُتر آؤ ۔ لڑکی نے اُس سے کہا کہ وہ کشتی پر سواری نہیں کرنا چاہتی جب تک وہ اُس سے یہ وعدہ نہ کر لے کہ تم مجھے تب تک نہیں چھووُ گے جب تک ہم گھر نہ پُہنچ جائیں اور قانونی طور پر شادی نہ کرلیں سو سوداگر کے بیٹے نے شہنشاہ کی بیٹی سے وعدہ کیا۔ تب وہ کشتی پر سوار ہوئی اور اُس سوداگر نے دیکھا کہ یہ لڑکی ساز بجا سکتی ہے اور کئی زبانیں بول سکتی ہے اور وہ خوش تھا کہ مجھے اِس لڑکی سے مِلنے کا موقع مِلا ہے ۔

بعد میں جب وہ اُس کے گھر پہنچے تو اُس لڑکی نے اُس سوداگر کو بتایا کہ یہ مناسب رہے گا کہ وہ اپنے گھر جائے اور اپنے باپ اور اپنے رشتے داروں اور تمام اچھے دوستوں کو اِس بات کی خبر دے کہ وہ کتنی اہم عورت کو ساتھ لیکر آیا ہے ۔ تاکہ وہ سب باہر آئیں اور اُس لڑکی کو خوش آمدید کہیں اِس کے بعد یوں ہوا کہ وہ سوداگر اِس بات کا پتہ نہ لگا سکا کہ یہ لڑکی کون ہے؟ ( اِس سے قبل اُس لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ جب تک اُن دونوں کی شادی نہیں ہوجاتی وہ اُس سے کچھُ نہ پوچھے کہ وہ کون ہے ؟ صرف شادی ہوجانے کے بعد ہی وہ یہ بات پوچھ سکتا ہے ) اور سوداگر نے لڑکی کی اِس بات کو تسلیم کیا۔ اُس لڑکی نے سوداگر سے یہ بھی کہا کہ یہ مناسب رہے گا کہ آپ کو تمام ملاحوں کو بُلانا چائیے اور اُنکو کشتی پر اِس شادی کی خوشی میں اچھی سی شراب پلانی چائیے تاکہ وہ یہ جان لیں کہ اُن کے سوداگر نے کیسی عورت سے شادی کی ہے؟ لہٰذا وہ مان گیا اور وہ بُہت اچھی شراب لیکر آیا ۔ اور اُس نے شراب کشتی پر ملاحوں کو دے دی اور اُن ملاحوں نے شراب پی اور نشے کی حالت میں آگئے ۔ سوداگر اپنے گھر کو واپس گیا تاکہ اپنے باپ اور دوستوں کو آگا ہ کر دے ۔ اور وہاں یہ ہوا کہ ملاح سارے کے سارے نشے میں دُھت ہوگئے اور نشے کی وجہ سے نیچے گر گئے اور وہاں ہی لیٹ گئے ۔

جب سوداگر کا پورا خاندان اُس لڑکی کی خوش آمد کیلئے تیاری کر رہے تھے ۔ وہ لڑکی اُس جگہ پر چلی گئی اور کشتی کو ساحلِ سمندر سے دوُر لے گئی اُس نے ملاحوں کو کشتی سے الگ کر دیا اور خود کشتی میں بیٹھ کر نکل گئی اور سوداگر کا سارا خاندان کشتی پر سوار ہونے کیلئے آئے پر اُنہوں نے وہاں کسی کو نہ پایا اور سوداگر کا باپ اپنے بیٹے پر غصہ ہوا مگر( اُس کا بیٹا چلا چلا کر یہی کہتا رہا )کہ میرا یقین کرو میں نے رقم دے کر وہ کشتی خریدی تھی لیکن اُنہوں نے وہاں ایسا کچھُ نہ دیکھا تھا ۔ سو اُس کے باپ نے کہا کہ ملاحوں کو جا کر پوچھو کہ ماجرہ کیا ہوا ہے ؟ اور وہ سوداگر گیا اور اُس نے ملاحوں سے سب کچھُ پوچھا مگر وہ سب نشے کی حالت میں زمین پر گرے ہوئے تھے ۔ اِس کے بعد جب وہ شراب کے نشے سے باہر آئے تو سوداگر نے دوبارہ اُن سے پوچھا تو اُنہوں نے یہ جواب دیا کہ وہ کچھُ نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا صرف وہ اتنا جانتے تھے کہ اُنہوں نے ایک کشتی خریدی تھی اور وہ بھی قیمت ادا کرکے ۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں چلی گئی ؟ اور سوداگر کا باپ اپنے بیٹے پر بُہت غصہ ہوا اور اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا ۔ بعد میں وہ یہ سب کچھ دیکھ کر اپنے ہوش میں نہ آسکا اور وہ اُن سب سے بُہت دوُر چلا گیا ۔ ایک آوارہ آدمی بن گیا۔ اور( شہنشاہ کی بیٹی نے سمندر کا سفر تہہ کر لیا تھا) ۔

اور پھر کچھ عرصے بعد یوں ہوا کہ وہاں ایک بادشاہ تھا۔ اور بادشاہ نے اپنا محل سمندر کے قریب بنایا تھا کیونکہ وہ بادشاہ سمندر کی ہواؤں سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا ۔ اور وہ جہازوں کو سامان منتقل کرنے کیلئے استعمال کیا کرتا تھا۔ اور شہنشاہ کی بیٹی کشتی پر بیٹھ کر سمندر کا سفر کئے ہوئے آرہی تھی۔ اور وہ بادشاہ کے محل کے قریب پہنچی اور بادشاہ نے اپنی نظر اُٹھا کر دیکھا کہ کشتی بنا چپو کے چلی آرہی ہے اور اُس پر لوگ بھی موجود نہیں ہیں ۔ اُس نے سوچا ہوسکتا ہے میں غلط دیکھ رہا ہوں سو اُس نے اپنے خادموں کو بھی دیکھنے کا حکم دیا تو اُنہوں نے بھی ویسا ہی دیکھا جیسا بادشاہ دیکھ رہا تھا ۔ اور شہنشاہ کی بیٹی محل کے قریب پہنچی اور اُس نے محل کو دیکھتے ہو ئے کہا کہ ’’ مجھے محل کی کیوں ضرورت ہے؟ ‘‘ لہٰذا شہنشاہ کی بیٹی نے دوبارہ واپس جانے کا فیصلہ کیا مگر بادشاہ نے اُس کو لانے کیلئے آدمی بھیجے اور وہ شہنشاہ کی بیٹی کو اپنے گھر لے آیا اور اُس بادشاہ کی کوئی بھی بیوی نہ تھی کیونکہ اُس نے اپنی بیوی ہونے کیلئے ابھی تک کسی کو بھی پسند نہیں کیا تھا ۔ اور جسے بھی وہ چاہتا تھا وہ اُسے نہیں چاہتی تھی ۔ اِس کے برعکس جب شہنشاہ کی بیٹی اُس کے پاس آئی تو اُس نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اُسے تب تک نہیں چھوئے گا جب تک وہ اُس سے قانونی طور پر شادی نہ کر لے اور بادشاہ نے شہنشاہ کی بیٹی سے یہ قسم کھائی ۔ اور شہنشاہ کی بیٹی نے بادشاہ سے یہ بھی کہا کہ یہ مناسب رہے گا کہ وہ نہ اِس جہاز کو کھولے اور نہ اُسے چھوُئے اور وہ تب تک سمندر پر رُکے گی جب تک اُس کی شادی نہیں ہوجاتی اور پھر سب لوگ دیکھیں گے کہ وہ کتنی دولت اپنے ساتھ لائی ہے اور کوئی نہیں کہے گا کہ وہ ایک عام خاتون ہے ۔ اور بادشاہ نے اِس بات کا بھی وعدہ اُس سے کیا۔

اور بادشاہ نے تمام مُلکوں میں یہ لکھ کر بھیج دیا کہ وہ سب شادی میں آئیں اور بادشاہ نے شہنشاہ کی بیٹی کیلئے محل بھی بنوایا اورشہنشاہ کی بیٹی نے یہ حُکم جاری کیا کہ اُس کے ساتھ رہنے کیلئے گیاراں لڑکیاں اُسے بھیجی جائیں اور بادشاہ نے اِس بات کا حُکم جاری کر دیا ۔ اور اُن وزیروں کی بیٹیوں کیلئے اُن میں سے ہر ایک کیلئے ایک الگ محل تیار کیا جائے اور شہنشاہ کی بیٹی کیلئے بھی ایک خاص محل کا انتظام کیا گیا ۔ اور وہ اُس محل کو ایک ساتھ ساز بجانے کیلئے اور کھیلنے کودُنے کیلئے استعمال کرتی تھی۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اُس نے اپنے ساتھ کی لڑکیوں سے کہا کہ وہ اُن کے ساتھ سمندر پر کشتی چلانا چاہتی ہے ۔ سو وہ اُن کے ساتھ گئی اور اُن کے ساتھ کھیلنے لگی اور شہنشاہ کی بیٹی نے اُن لڑکیوں سے کہا کہ وہ اُن کیلئے کچھ اچھی شراب اُن کی خدمت کے لئے لاتی ہے جو اُس کے پاس کشتی پرہی موجود ہے اور اُس نے لڑکیوں کو وہ شراب دی جو اُس کے پاس موجود تھی اور اُنہوں نے جیسے ہی وہ شراب پی وہ سب نشے کی حالت میں آگیں اور وہاں ہی لیٹ گئیں اور وہ چلی گئی اور جہاز پر بحری سفر کرنے لگی شہنشاہ کی بیٹی جہاز کے ساتھ فرار ہوگئی۔

اور بادشاہ نے اور اُس کے آدمیوں نے جب یہ دیکھا کہ وہاں کشتی موجود نہیں تو وہ بُہت پریشان ہوئے۔ اور بادشاہ نے کہا کہ محتاط رہو شہنشاہ کی بیٹی کو اچانک سے یہ نہ بتاؤ کیونکہ اِس بات سے اُسے بُہت غم ہوگا۔ بادشاہ یہ اِس لئے کہہ رہا تھا( کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا وہ بھی اُس کشتی کے ساتھ فرار ہو گئی ہے وہ سوچ رہا تھا کہ شہنشاہ کی بیٹی ابھی بھی اُسی جگہ پر موجود ہے) شاہد وہ یہ بھی سوچ سکتی ہے کہ بادشاہ نے جہاز کسی اور کو دے دیا تھا۔ اُنہیں خواتین میں سے صرف ایک کو بھیجنا چاہئے تاکہ اُسے ہوشیاری سے بتا سکے اور پھر وہ ایک کمرے میں گئے مگر وہاں کسی کو نہ پایا اور پھر اِسی طرح دوسرے کمرے سے باقی گیاراں کمروں میں بھی گئے مگر وہاں کسی کو بھی نہ پایا۔ لہٰذا وہ اِس بات پر راضی ہوا کہ رات کو ایک عظیم بزرگ خاتون کو بھیجا جائے تاکہ وہ شہنشاہ کی بیٹی کو اِس بات کی خبر دے جب وہ شہنشاہ کی بیٹی کے کمرے میں گئی جہاں وہ رہ رہی تھی تو وہاں اُس نے کسی کو بھی نہ پایا اور بادشاہ اور اُس کے ساتھ کے آدمی اِس بات سے بُہت زیادہ پریشان ہوگئے اور گیاراں لڑکیوں کے باپ نے جب یہ دیکھا کہ اُن کی بیٹیوں کی طرف سے اُنہیں کوئی بھی خطوط محصول نہیں ہوئے تو اُنہوں نے خود اپنی بیٹیوں کو خط لکھئے مگر اُن کا کوئی بھی جواب نہ آیا۔ سو وہ اپنی بیٹیوں کو تلاش کرنے کیلئے وہاں سے نکل کر باہر گئے مگر وہ اپنی اِس کوشش میں ناکام رہے اُن بیٹیوں کے باپ یہ دیکھ کر بُہت غصہ ہوئے اور وہ بادشاہ کو برباد کرنا چاہتے تھے ۔ ( وہ بادشاہ کو مُلک سے نکالنا چاہتے تھے تاکہ اُسے وہاں پہنچا دیں جہاں لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے ) کیونکہ وہ آدمی سلطنت کے بزرگ اور نیک لوگ تھے ۔ لیکن اُنہوں نے اِس بات پر غور کیا کہ بادشاہ اِتنا مُجرم ہے کہ وہ اِس غصے کا مستحق ہے ۔ سو وہ اِس بات پر مجبور ہوگئے اور اُنہوں نے اِس بات پر اِتفاق کیا کہ بادشاہ کو اُس سلطنت سے خارج کیا جائے اور اُسے جلا وطن کر دیا جائے ۔ سو اُنہوں نے بادشاہ کو اُس کی بادشاہی سے مُسترد کردیا۔ اور جلاوطن کرکے دوُر بھیج دیا ۔

شہنشاہ کی بیٹی جو گیاراں لڑکیوں کے ساتھ بھاگ گئی تھی جہاز کے ساتھ کنارے تک پہنچ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ نواب زادیاں شراب کے نشے سے جاگ گئیں اور دوبارہ کھیلنا کودُھنا شروع ہوگئیں جیسے وہ پہلے کھیل رہیں تھیں کیونکہ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کشتی ساحل سے چھوٹ کر آگے نکل آئی ہے بعد میں اُن لڑکیوں نے شہنشاہ کی بیٹی سے کہا کہ چلو واپس گھر کو چلتے ہیں اور اُس نے اُنہیں جواب دیا کہ ہم تھوڑی دیر یہاں اور رُکیں گئے کچھ دیر بعد ایک طوفانی ہوا آرہی ہے مگر اُنہوں پھر کہا کہ ہم واپس گھر جانا چاہتیں ہیں تب شہنشاہ کی بیٹی نے اُنہیں آگاہ کیا کہ کشتی ساحلِ سمندر سے یعنی گھر سے بُہت زیادہ دوُر آ چُکی ہے ۔ اور لڑکیوں نے اُسے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ شہنشاہ کی بیٹی نے جواب دیا کہ وہ خوف زدہ ہوگئی تھی کہ کہیں طوفانی ہوا کے باعث کشتی نہ ٹوٹ جائے اِس لئے وہ اُنہیں ساحل سے دوُرلے آئی اور گیاراں لڑکیوں نے اور شہنشاہ کی بیٹی نے سمندر کا سفر تہہ کر لیا اور وہاں ساز بجانے لگئی اور پھر وہ ایک محل کے قریب آئیں اور وہ لڑکیاں یہ کہنا شروع ہوگئیں کہ آؤ ہم اِس کے قریب جائیں مگر شہنشاہ کی بیٹی ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی ۔ اُس نے اُن لڑکیوں سے کہا کہ مجھے بُہت افسوس ہے اور میں( اُسی بادشاہ کے محل میں جاؤں گی) جو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔ اِس کے بعد اُنہوں نے سمندر پر جزیرے جیسا کچھ دیکھا اور وہ اُس کے قریب گئی اور وہاں اُنہیں باراں قزاق مِل گئے ۔ جو اِن لڑکیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے لہٰذا اُس نے پوچھا کہ تم میں سے سب سے بڑا کون ہے؟ اور اُنہوں نے اُسے دِکھایا ۔ شہنشاہ کی بیٹی نے اِن قزاقوں سے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ اُنہوں نے اُسے جواب دیا کہ ہم قزاق ہیں اور اُس نے قزاقوں سے کہا کہ ہم بھی قزاق ہیں تم اپنی طاقت سے قزاق ہو اور ہم اپنی دانائی سے قزاق ہیں کیونکہ ہم زبانیں بولنے میں مہارت اور موسیقی بجانے میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔ ہمیں مارنے کا تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ بلکہ یہ بہتر رہے گا کہ تم ہم سے شادی کر لو۔ تاکہ ہمارے ساتھ تم بھی مالدار بن جاؤ اورشہنشاہ کی بیٹی نے اُنہیں دیکھا کہ کشتی پر اُس کے پاس کیا کیا دولت موجود ہے( اُس کشتی پر جو تاجر کے بیٹے کی تھی) اور دولت سے بھری ہوئی تھی اور وہ قزاق اُس کی اِس تقریر سے بُہت خوش ہوئے ۔

اور اُن قزاقوں نے بھی اُنہیں اپنی تمام دولت دکھائی اور اپنے تمام مقامات دکھائے۔ اُنہوں نے اِس بات پر اِتفاق کیا کہ وہ ایک بار میں

( یعنی کہ اکٹھے شادی نہیں کرینگے ) بلکہ باری باری کریں گے اور ہر ایک قزاق اُن جوان لڑکیوں میں سے اپنی اپنی حیثیت کے مُطابق اِنتخاب کریگا۔ بعد میں شہنشاہ کی بیٹی نے اِن قزاقوں سے کہا کہ وہ اِن کی خدمت میں بُہت اچھی شراب لاتی ہے جو کہ اُس کے پاس کشتی پر ہی موجود ہے ۔ لیکن اُس نے یہ شراب کبھی بھی استعمال نہیں کی کیونکہ اُس نے اِسی دن کیلئے اِس شراب کو محفوظ کر کے رکھا تھا کہ جب خُدا اُس کا جیون ساتھی اُس کیلئے مُنتخب کردیگا اور اُس نے وہ شراب اُن قزاقوں کو پیش کی وہ بھی خاص شراب والے گلاسوں میں اوراُس نے اُن باراں قزاقوں میں سے سب کو شراب پلائی اور وہ اُسے پیتے ہی نشے میں دُھت ہوگئے اور وہاں ہی نیچے گرِگئے تب اُس نے اُن گیاراں لڑکیوں کوپُکار کر کہا کہ اَب جاؤ اور اپنے اپنے مردوں کو قتل کرو اور وہ گئیں اور اُن سب نے اُن باراں قزاقوں کو قتل کر ڈالا اور اُنہوں نے وہاں اُن قزاقوں کا بُہت سا جمع کیا ہوا خزانہ پایا جو زمین پر اور کسی بادشاہ کے پاس اُنہیں نہیں مِلا اور اُنہوں نے آپس میں اِس بات پر اِتفاق کیا وہ تانبے اور چاندی کو اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گئیں بس صرف سونا اور جوہرات اپنے ساتھ رکھیں گئیں اُنہوں نے وہ سامان جہاز پر سے اُتار دیاجو بُہت قیمتی تھا اور جہاز کو لبالب قیمتی سامان کے ساتھ بھر دیااور اُنہوں نے اِس بات پر بھی اِتفاق کیا کہ وہ اَب عورتوں کے لباس میں نہیں رہیں گئیں ۔ لہٰذا اُنہوں نے اپنے لئے جرمن انداز میں مردوں والے کپڑے سلائی کئے ۔ اور اُن کو پہن لیا اور جہاز پر سوا ہو کر آگے کو چلیں گئیں ۔

اور اِس کے بعد ایسا ہوا کہ ایک بادشاہ تھا اور اُس کا صرف ایک ہی بیٹا تھا اور اُس نے اپنے بیٹے کی شادی کروائی اور سلطنت اُس کے حوالے کر دی ۔ ایک مرتبہ اُس نے اپنے باپ سے کہا میں اپنی بیوی کے ساتھ سمندر میں جہاز کا سفر کرنا چاہتا ہوں وہ جہاز کو( سمندری ہواؤں سے لطف اندوز ہونے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے) اور جب اُنہوں خطرہ محسوس ہوگا تب یہ جہاز اُن کو سمندر سے بچانے کیلئے مددگار ثابت ہو گا۔ اور شہزادہ اور اُس کی بیوی اور اُس کا وزیرہ یہ سب جہاز پر روانہ ہوگئے اور یہ سب وہاں بُہت خوش تھے ۔ اور آپس میں ہنسی مذاق کررہے تھے اور اُنہوں نے اپنے کپڑے اُتار نے کافیصلہ کیا( بادشاہ اور وزیز جو وہاں پر موجود تھے اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا ) اور اُن کے بدنوں پر قمیضوں کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ اور اُن میں سے کئی لوگوں نے جہاز کے ستون پر چڑھنے کی کوشش کی اور بادشاہ کا بیٹا بھی جہاز کے ستون پر چڑھ گیا اور اِس دوران شہنشاہ کی بیٹی جہاز میں بیٹھ کر آئی اور اُس نے شہزادے کے جہاز کو دیکھا پہلے تو وہ جہاز کے قریب جانے سے ڈری لیکن بعد وہ اُس کے تھوڑا سا قریب گئی اور جب شہنشاہ کی بیٹی نے دیکھا کہ وہ سب جہاز میں ہنس کھیل رہے ہیں تو تب وہ سمجھی کہ یہ قزاق نہیں ہیں اور پھر وہ اور زیادہ قریب آئی۔

شہنشاہ کی بیٹی نے اپنے لوگوں سے کہا کہ میں اِس گنجے سر والے آدمی کو سمندرکے بیچ میں پھینک دونگی ۔ ( شہزادہ جو جہاز کے ستون پر چڑھا ہوا تھا ایک گنجے سر والا ہی آدمی تھا اِس لئے کہ اُس نے پورے سر کی ٹنِڈ کروائی تھی ) اُنہوں نے شہنشاہ کی بیٹی سے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ہم اُن سے بُہت دوُر ہیں ؟ شہنشاہ کی بیٹی نے اُنہیں جواب دیا کہ اُس کے پاس محدب عدسہ ہیں اور اُسی کے زریعہ وہ اُس کو نیچے گِرائے گئی۔ اور شہنشاہ کی بیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اِس کو اُس وقت سمندر میں نیچے گِرائے گئی جب وہ جہاز کے ستون پر بلکل اُوپر چڑھ جائے گا ۔ کیونکہ اگر وہ جہاز کے ستون کے درمیان میں ہی ہوا تو وہ سیدھا جہاز ہی میں گِرے گا سمندر میں نہیں لیکن اگر وہ جہاز کے ستون کے بلکل اُوپر ہوا تو سیدھا سمندر ہی میں جائے گا۔ اور وہ انتظار کرہی تھی کہ کب شہزادہ جہاز کے ستون کے اُوپر پہنچے گا۔ اور جیسے ہی وہ جہاز کے ستون کے اُوپر پہنچا تو شہنشاہ کی بیٹی نے اپنی محدب عدسہ لیا اور اُس نے سورج کی طرف پکڑکے اُس کے دماغ کی طرف نشانہ کرکے اُس کا دماغ جِلایا ۔ اور وہ اُس کو تب تک جلاتی رہی جب تک اُس کا دماغ پوری طرح جل نہ گیا ۔اور پھر اُس نے شہزادے کو بیچ سمندر میں پھینک دیا۔

اور( شہزادے کے جہاز میں بیٹھے لوگوں نے جب یہ دیکھا) تو وہاں جہاز کے اندر بڑی پریشانی کے باعث شور مچ گیا۔ اور وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ کیسے واپس اپنے گھروں کو جائیں ۔ بادشاہ تو غم سے مرجائے گا ؟ اور اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جہاز کو( شہنشاہ کی بیٹی) کی کشتی کے قریب لے جائیں کیونکہ اُنہوں نے یہ دیکھا تھا کہ شاید وہاں کوئی ڈاکٹر موجود ہو جو اُنہیں مشورہ دے سکے ( شہزادے کے لوگ جو کشتی میں سوار تھے وہ نواب زادیوں کی کشتی پر جوکہ بادشاہ کی بیٹی کی تھی پہنچے) اور اُس کے عملے سے کہا کہ خوف نہ کریں کیونکہ وہ اُنہیں نقصان پہنچانے نہیں آئے ۔ اُنہوں نے کشتی والوں سے پوچھا کہ شاید آپ لوگوں میں سے کوئی ڈاکٹر ہو؟ جو ہمیں مشورہ دے سکے اور اُن لوگوں نے پوری کہانی اُنہیں بتائی کہ کیسے شہزادہ سمندر میں گِرا شہنشاہ کی بیٹی نے اُنہیں بتایا کہ وہ اُسے سمندر سے باہر نکال لائیں اور وہ گئے اور اُنہیں شہزادہ مِل گیا ۔ اور وہ اُسے سمندر سے باہر نکال لائے اور شہنشاہ کی بیٹی نے اپنے ہاتھوں سے اُس شہزادے کی دھڑکن محسوس کی اور کہا کہ اِس کا دماغ جل چُکا ہے اور اُس نے اُس کا دماغ کھولا اور بلکل ویسا ہی پایا جیسا اُس نے کہا تھا اور وہ سب بُہت حیران ہوئے کہ ڈاکٹر کتنا زیادہ درُست ہے ۔ (جیسا اُس نے کہا تھا بلکل ویسا ہی ہے ) لہٰذا اُنہوں نے اُس کی مِنت کی کہ وہ اُن کے ساتھ گھر جائے اور بادشاہ کی ڈاکٹر بنے اور شہنشاہ کی بیٹی بُہت اہم ہوگئی اُن کیلئے۔ لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی اُس نے اُن سے کہا کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں میں بس یہ چیزیں جانتی ہوں ۔

اور شہزادہ کے جہاز کے لوگ واپس گھر جانا نہیں چاہتے تھے سو وہ دونوں جہاز ایک ساتھ ہی رہے ۔ اور اُس نیک انسان نے اِس خیال سے یہ منظوری دی کہ کیوں نہ اِن کی( ملکہ شہزادے کی بیوہ) کی شادی اِس ڈاکٹر سے کروادی جائے کیونکہ اُنہوں نے اِس ڈاکٹر میں ایک عظیم حکمت اور دانائی پائی تھی وہ بزرگ آدمی جو اُس شہزادے کا تھا جو پانی میں گِر کے مرگیا تھا یہ سوچ رہا تھا کہ( شہنشاہ کی بیٹی اور اُس کے ساتھ کی تمام خواتین مرد ہیں )کیونکہ اُنہوں نے مردوں جیسے لباس پہنے ہوئے تھے سو وہ( اپنی ملکہ کی شادی اُس ڈاکٹر سے کروانا چاہتے تھے) جو حقیقت میں( شہنشاہ کی بیٹی تھی) کیونکہ وہ ڈاکٹر اُن کی نظروں میں اپنی عظیم حکمت سے یہ جانتا تھا کہ شہزادے کے دماغ کو جلا کر اُسے نیچے پھینکا گیا ہے اور واقع میں ایسا ہی ہوا تھا اِسی بات سے وہ سب بُہت متاثر ہوئے تھے ۔ وہ اُس ڈاکٹر کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے ۔ اور ( اپنے بوڑھے بادشاہ کو قتل کرنا چاہتے تھے ) اُنہیں یہ بات اپنی ملکہ سے کہتے ہوئے شرم آرہی تھی کہ وہ ڈاکٹر سے شادی کرے لیکن وہ ملکہ اِس ڈاکٹر سے شادی کرنے پر بُہت خوش تھی لیکن ملکہ صرف اِس بات سے ڈر رہی تھی کہ شاید ملک کے لوگ ڈاکٹر کو بادشاہ بننے نہ دیں ۔ اور وہ اِس بات پر راضی ہوئے کہ وہ شام کا کھانا رکھیں گئے ۔ اور اِس خوشی کے موقع پر آپس میں مے نوشی بھی کریں گے اور ہر ایک نے اپنی طرف سے دعوت کا انتظام الگ الگ دِن پر کیا تھا ۔ اور پھر اِس مسلے پر بات چیت بھی کریں گے اور اُنہوں نے شام کی ضیافت تیار کی جو اُن کا مقرر کردہ دن تھا۔

اور پھر شہنشاہ کی بیٹی ( ڈاکٹر ) کی ضیافت کا دن آیا تو اُس نے اُنہیں شراب پیش کی اور سب شراب پی کر نشے میں آگئے اور اِس خوشی کے موقع پر اُس مرے ہوئے شہزادہ کے وزیر نے کہا کہ یہ کِتنا اچھا ہوگا کہ اگر ہماری ملکہ اِس ڈاکٹر سے شادی کر لئے؟ اور پھر ڈاکٹر نے کھڑے ہو کر یہ کہا کہ یہ بُہت اچھا ہو گا کہ اگر اِس کے بارے میں اُنہوں نے اُس مُنہ سے بات کی ہو جو نشے میں نہیں تھا اور ملکہ نے بھی کھڑے ہو کر کہا کہ یہ بُہت اچھا رہے گا کہ اگر میں اِس ڈاکٹر سے(شہنشاہ کی بیٹی ) شادی کر لوں بس صرف یہ ہو کہ پورا ملک بھی راضی ہوجائے ۔ اور ڈاکٹر نے پھر کھڑے ہو کر کہا کہ یہ بُہت اچھا رہے گا کہ اگر اُنہوں نے اِس بارے میں بات اپنے نشے والے مُنہ سے نہ کہی ہو! ۔

( مگر اُس وقت سب نشے میں ہی تھے) اِس کے بعد جب وہ اپنے پینے سے سیراب ہو گئے تو وزیر نے اُٹھ کر دوبارہ یہ کہا کہ ہم نے جو یہ باتیں کیں ہیں ہم پہلے ملکہ کی وجہ سے شرما رہے تھے مگر جب ملکہ نے بھی یہ ہی بات کی ہے تو ٹھیک ہے اور ہم نے اس بات کو ظاہر کر دیا اور ملکہ بھی اِن کی وجہ سے شرما رہی تھی اور اُس نے بھی خود سے یہ کہہ دیا اور اِس بات کو ظاہر کر دیا ۔ لہٰذا اُنہوں نے اِس بات پر بحث شروع کی اور آپس میں اِس بات پر اتفاق کیا کہ ملکہ ڈاکٹر سے ہی شادی کرے گی ۔ ( یہ شہنشاہ کی ہی بیٹی ہے جسے وہ ڈاکٹر سمجھ رہے تھے ) اور وہ سب گھر کو گئے جو ملکہ کا ملک ہے جب ملک والوں کی نظریں اُن پر پڑیں تو وہ سب بُہت خوش ہوگئے کیونکہ شہزادہ کو جہاز کے سفر پر گئے ہوئے ایک مُدت ہوگئی تھی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ شہزادہ کہاں کو گیا ہے اور وہ بوڑھا بادشاہ اُن کے آنے سے پہلے ہی وفات پا چُکا تھا اِس کے بعد اُن لوگوں نے اِس بات پر غور کیا کہ وہ شہزادہ (جو اُن کا بادشاہ بنے گا وہاں موجود نہیں ہے) اور اُن لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ ہمارا بادشاہ کہاں ہے ؟ اور اُن مسافروں نے تمام کہانی اُن لوگوں کو بتائی کہ اُن کا بادشاہ ( شہزادہ ) مر چُکا ہے اور اُنہوں نے ایک نیا بادشاہ قبول کیا ہے جو اُن کے ساتھ آیا ہے ۔ وہ سب اپنے بادشاہ کو دیکھ کر بُہت خوش ہوئے کہ ایک نیا بادشاہ پہلے سے ہی موجود ہے ۔ اورڈاکٹر (بادشاہ جو شہنشاہ کی بیٹی ہی تھی) اور اب بادشاہ بن چُکی ہے اُس نے یہ حُکم جاری کیا کہ ہر ملک میں جو کوئی بھی ہو چاہے وہ غیر ملکی ہو یا زیارت کرنے آیا ہو یا جِلاوطن ہو اُس کی شادی میں سب ضرور آئیں کوئی بھی غیر حاضر نہ ہو کیونکہ بادشاہ اِن لوگوں کے زریعے عظیم تحفے پانا چاہتا تھا ۔ اور (شہنشاہ کی بیٹی) بادشاہ نے حُکم جاری کیا کہ شہر کے اِرد گِرد چشموں کو تعمیر کیا جائے تاکہ جب کسی کو پیاس لگے تو اُس کا پینے کو دِل کرے تو اُس کو زیادہ دوُر چل کر جانا نہ پڑے ہر کسی کو اپنے قریب ہی چشمہ مِل جائے ۔ اور(شہنشاہ کی بیٹی) بادشاہ نے یہ حُکم بھی دیا کہ ہر چشمہ پر اُس کی تصویر بنائی جائے اوروہاں اُس نے پہراداروں کو بھی تعنیات کیا تاکہ وہ اُسے دیکھتے رہیں کہ اگرکوئی وہاں آئے اور اُس تصویر کو بُہت غور سے دیکھے اور اُسے ناپسند کر دے ( وہ تصویر جو بادشاہ کی تھی) تو اُسے قید خانہ میں ڈال دیں اور اُس نے سب کچھ ایسا ہی کیا اور وہ تینوں آدمی بھی وہاں پہنچے ۔ پہلا شہزادہ جو سچ میں شہنشاہ کی بیٹی کا دوُلہا تھا اور دوسرا اُس امیر سوداگر کا بیٹا جس کو ( اُس کے باپ نے جِلا وطن کیا تھا ) کیونکہ شہنشاہ کی بیٹی نے اُس کا جہاز اور تمام پیسے لیکر فرار ہوگئی تھی اور تیسرا وہ بادشاہ جو اپنی بادشاہی سے نکالا گیا تھا ( جس کی گیاراں خواتین کو لیکر شہنشاہ کی بیٹی بھاگ گئی تھی ) اور اُن میں سے ہر ایک نے شہنشاہ کی بیٹی کی تصویر پہچان لی تھی اور اُنہوں نے دیکھا اور یاد کیا اور بُہت ہی افسوس کیا سو اُن پہراداروں نے یہ دیکھ کر اُن کو قید میں ڈال دیا ۔ بارات کے دوران (شہنشاہ کی بیٹی) نے حُکم دیا کہ اِن تینوں کو قید خانہ سے باہر لے کر آؤ اور وہ تینوں قیدیوں کو لیکر آئے اور اُن کو شہنشاہ کی بیٹی کے سامنے حاضر کیا اور اُس نے اُنہیں پہچان لیا مگر وہ اُسے پہچان نہ سکے کیونکہ اُس نے آدمیوں والا لباس پہن رکھا تھا شہنشاہ کی بیٹی کھڑی ہوئی اور بولی کہ تم بادشاہ اپنی بادشاہی سے اُن گیاراں لڑکیوں کی وجہ سے نکالے گئے ہو جو گُم ہوگئیں تھیں یہاں ہیں وہ تمہاری گیاراں خواتین اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ اور اپنی بادشاہی میں ( وہ گیاراں لڑکیاں جو اِس مُلک میں موجود تھیں ۔اُس نے پہلے بادشاہ کے ساتھ بات کی جو جِلا وطن ہوگیا تھا اور اب اُس نے اپنا مُنہ سوداگرد کے بیٹے کی طرف کیا اور اُس کے ساتھ بات شروع کی )اور تم! سوداگر اپنے باپ کی طرف سے جِلاوطن کئے گئے ہو کیونکہ کشتی اور اُن پیسوں کی وجہ سے جو تم سے گُم ہوگئی تھی یہاں ہے وہ کشتی تمہارے تمام پیسوں کے ساتھ اور چونکہ یہ پیسے بُہت دیر تک میرے پاس رہے لیکن اِس جہاز میں پہلے سے بھی کئی گُنا زیادہ دولت موجود ہے وہ جہاز سوداگر کے بیٹے کے تمام پیسوں کے ساتھ تھا جسے وہ لیکر فرار ہوگئی تھی (اَب بھی برقرار ہے اور اِس کے علاوہ اِس جہاز میں اور بھی زیادہ دولت موجود ہے جو اُس نے قزاقوں سے لی تھی) اور یہ دولت بُہت ہی زیادہ تھی اور تم شہزادے ( یہاں میرا سچا دوُلہا ہے )آؤ ہم واپس اپنے گھر کو جائیں اور پھر وہ دونوں اپنے گھر کو واپس چلے گئے ۔ خُدا اُنکو ہمیشہ اپنے امان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین
