# گمُ شُدہ شہزادی کی کہانی

> מקור: https://rabenu.app/books/ur-4/1/

**گمُ شُدہ شہزادی کی کہانی ۔**

اُس نے بات چیت کی اور کہا راستے میں مَیں نے ایک کہانی بتائی کہ کبھی کسی نے سُنا ہے کہ کسی کو توبہ کا خیال آیا ہو اور کہانی بھی یہی ہے ۔

وہ کہانی یہ ہے کہ ایک بادشاہ تھا اور بادشاہ کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھی یہ بیٹی اُسکی نظروں میں بُہت قیمتی تھی اور بادشاہ اپنی بیٹی کا حد سے زیادہ مشتاق تھا ۔ اور اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے پر وہ بُہت زیادہ خوشی محسوس کرتا تھا ۔

ایک مرتبہ کا زکر ہے کہ کچھ دن پہلے بادشاہ اپنی بیٹی کے ساتھ تھا اور وہ اپنی بیٹی سے ناراض ہوگیا اور وہ الفاظ جو بادشاہ کے مُنہ سے شہزادی

کیلئے نکلے یہ تھے ۔ جو اچھا نہیں ہے شاید وہ آپ کو مجھ سے دُور کر سکتا ہے اور اِسی رات شہزادی اپنے کمرے میں چلی گئی اور صُبح یہ ہُوا کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ شہزادی کہاں چلی گئی۔ جب اِس بات کی خبر اُس کے باپ کو ہوئی تو وہ پریشان ہوُا ۔ اور بادشاہ نے اپنی بیٹی کو ہر جگہ تلاش کیا پر نہ پایا ۔ پھر بادشاہ کو ایسی بڑی مُصیبت میں دیکھ کر وزیر نے کھڑے ہوکر بادشاہ کو درخواست کی کہ ایک نوکر اُسے دیا جائے اور اُسے ایک گھوڑا اور کُچھ اخراجات دیئے جائیں اور اُسے شہزادی کو ڈھونڈنے کیلئے بھیجا جائے اور شہزادی کو تب تک ڈھونڈتا رہے جب تک وہ اُس کو مِل نہ جائے ۔ اَب اُس نے یہ بتایا کہ جب تک مُجھے شہزادی مل نہ گئی میں نے اُسے کس کس طرح ڈھونڈا ۔ وہ گیا اور بُہت دیر تک چلتا رہا اور صحرا میں کھیتوں میں اور جنگلوں میں اُس نے شہزادی کو ڈھونڈنے کیلئے بُہت دیر تک کوشش کی جب اُس نے دیکھا کہ میں صحرا میں بُہت طویل وقت سے ڈھونڈ رہا ہوں ۔ تب اُس نے نظر دوڑا کر دیکھا کہ اُس طرف ایک رستہ موجود ہے اور سوچا کہ یہ ٹھیک رہیگا میں کافی دیر سے چل رہا ہوں اور تلاش کر رہا ہوں مگر میں نے اُسے نہیں پایا۔ پھر وہ ایک بُہت طویل عرصے کیلئے سفر پر روانہ ہوگیا۔ اِس کہ بعد وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک محل ہے اور محل کے گرد فوجیوں کا ایک بڑا لشکر کھڑا ہے اور محل نہایت ہی خوبصورت ہے اور فوجیوں کا ایک بڑا لشکر اُس محل کے گر د ٹھیک طرح سے کھڑا ہوا ہے جو بُہت ہی خوبصوت اور باوقار نظر آرہا ہے ۔ وہ فوجیوں کے بڑے لشکر سے خوف زدہ ہوُا کہ شاید وہ اُسے محل کے اندر جانے نہ دیں گے پھر اُس نے سوچا اور اپنے آپ سے کہا نہیں میں آگے بڑھ کر کوشش ضرور کرونگا ۔ سو وہ اپنا گھوڑا پیچھے چھوڑ آیا اور محل کی طرف روانہ ہوُا ۔ اور اُنہوں نے اُسے اندر جانے کی اجازت دے دی اور فوجیوں کے لشکر نے اُسے روکنے کیلئے کُچھ بھی نہ کیا۔ سو وہ محل کے اندر جاکر ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک پھرتارہا وہ بھی بنا کسی روک ٹوک کے اور پھر وہ ایک جگہ تک پہنچا جو بڑا محل( ہال ) کہلاتا ہے ۔ اور وہاں وہ کیا دیکھتا ہے کہ اُس ہال میں بادشاہ موجود ہے جو اپنا تاج پہنے ہوے بیٹھا ہے اور فوجیوں کے بُہت سے لشکر اُس کے آس پاس کھڑے ہیں اور بُہت سے موسیقار بادشاہ کے سامنے تار دار سازوں پر بجا رہے تھے اور وہ ماحول بُہت ہی خوبصورت اور خوشگوار تھا۔ اور نہ ہی بادشاہ نے اور نہ ہی اِن میں سے کسی نے بھی اُس سے کُچھ بھی نہ پوچھا اور پھر اُس نے وہاں بُہت ہی لزیز کھانا دیکھا سو وہ گیا اور اُس نے اُس کھانے میں سے کھایا ۔ کھانے پینے کے بعد وہ ایک کونے میں جاکر لیٹ گیا ۔ کہ دیکھے کہ اور یہاں کیا ہوتا ہے اور وہ کیا دیکھتا ہے کہ بادشاہ نے یہ حُکم جاری کیا کہ ملکہ کو حاضر کیا جائے ۔ اور وہ ملکہ کو لائے اور وہاں لوگوں کا ایک بُہت بڑا ہجوم تھا ۔ اور بُہت ہی خوشی تھی اور جب ملکہ لائی گئی تو موسیقاروں نے بجانا شروع کیا اور گانے والے شوق سے گانے لگے اورملکہ کہ لئے ایک تخت لگایا گیا اوروہ جاکر بادشاہ کے پاس بیٹھ گئی اور وہ ملکہ ہی بادشاہ کی کھوئی ہوئی بیٹی تھی ۔ اُس آدمی نے جو شہزادی کو ڈھونڈنے آیا تھا ملکہ کو دیکھا اور اُسے پہچان لیا ۔ اِس کے بعد ملکہ نے دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ کوئی شخص کونے پر لیٹا ہے ملکہ نے اُسے پہچان لیا سو وہ اپنے تخت سے اُٹھی اور اُس کے پاس گئی اور اُس نے اُسے چھُوا اور اُس سے پوچھا کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ اُس نے جواب دیا ہاں میں تمہیں پہچانتا ہوں تم بادشاہ کی بیٹی ہو جو کھو گئی تھی اُس نے شہزادی سے یہ پوچھا کہ تم یہاں کیسے پہنچی ؟ تو شہزادی نے اُسے جواب دیا ۔ یہ الفاظ میرے والد کے مُنہ سے نِکلے ( جو اچھا نہ ہو وہ آپ کو لے جائے ) یہاں یہ وہ جگہ ہے جو اچھی نہیں ہے تب اُس نے شہزادی کو بتایا کہ اُس کا باپ بُہت غمگین ہے وہ تہمیں کافی سالوں سے ڈھونڈ رہا ہے اور اُس نے شہزادی سے یہ پوچھا کہ میں تمہیں یہاں سے باہر کیسے نکال سکتا ہو؟ شہزادی نے جواب دیا کہ یہ ناممکن ہے کہ تم مجھے یہاں سے نکالو۔ پھر بھی تمہیں اپنے آپ کے لئے ایک جگہ کا انتخاب کرنا پڑے گا اور تب تک پورا سال وہاں رہنا ہوگا اِس پورے سال میں تمہیں میرے لئے بُہت طویل عرصے تک انتظارکرنا پڑے گا کہ مجھے یہاں سے باہر نکال سکو۔ اور اگر تمہارے پاس اتنا وقت ہے اور اتنے لمبے عرصے تک تمہیں ایک طویل اور پکا ارادہ خواہش اور اُمید کرنی ہوگئی اور اِس بات پر قائم رہ سکتے ہو تو پھر مُجھے یہاں سے نکالنے کی اُمید ہے تمہیں یہ کرنا ہو گا کہ سال کے آخری دن تمہیں روزہ رکھنا ہوگا اُس سال کے آخری دن پر تمہیں سارا دن جاگتے رہنا ہوگا یعنی ایک سورج غروب ہونے سے دوسرے سورج غروب ہونے تک سونا نہیں ہو گا سو وہ چلا گیا اور اُس نے ایسا ہی کیا اور سال کے آخر میں اُس آخر دن پر اُس نے روزہ بھی رکھا اور سویا بھی نہیں سو وہ اُٹھا اور شہزادی کے پاس گیا کہ اُس کو محل سے باہر نکالے اُس نے ایک درخت دیکھا جس پر بُہت ہی خوبصورت سیب لگے ہوئے تھے اور وہ اُس کی آنکھوں کو بُہت ہی خوش نُما معلوم ہو ئے سو وہ اُس درخت کے پاس گیا اور اُس نے اُس درخت میں سے کھایا جیسے ہی اُس نے وہ سیب کھایا تو وہ نیچے گرِگیا اور گہری نید میں سوگیا اور وہ بُہت لمبے عرصے کیلئے سویا رہا۔ اُس کے خادم نے اُسے جگانے کی بُہت کوشش کی مگر وہ نہیں اُٹھا پھر جب وہ نیند سے جاگا تب اُس نے اپنے خادم سے پوچھا کہ میں اِس وقت کہاں ہوں اُس کے خادم نے اُسے تمام کہانی بتائی کہ آپ بُہت لمبے عرصے کیلئے سوگئے تھے کئی سال گز چُکے ہیں اور آپ سوئے رہے ہیں مگر میں نے اپنے آپ کو پھل کھانے سے روکے رکھا جب اُس نے یہ سب کُچھ سُنا تو وہ بُہت پرشان ہوگیا اور اُس نے شہزادی کو ڈھونڈا شہزادی نے اُس پر بُہت بڑا ماتم کیا اور شہزادی بُہت پرشان تھی اور اُس نے کہا کیونکہ ایک دن تم سب کُچھ کھو دو گے ( دوسرے الفاظوں میں ) یہ کہ کیونکہ آپ ایک دن کے لئے اپنے آپ کو روک نہیں سکے اِس لئے آپ نے اِس چیز کیلئے سیب کھایا ۔ کیونکہ اگر تم صرف اُس دن پر آئے ہوتے تو تم مُجھے یہاں سے باہر نکال سکتے تھے ۔ مگر یہ سچ ہے کہ کُچھ بھی نہ کھانا بُہت مُشکل کام ہے خاص کر آخر دن جس دن شیطان کی ڈھالبُہت طاقتور ہوتی ہے ۔ شہزادی نے اُس سے کہا اب میں اور بھی زیادہ تمہارے لئے آسانی کروں گی کہ اَب تم پر کھانے کی کوئی پابندی نہیں ہوگئی کیونکہ یہ بُہت مُشکل کام ہے کہ اِن چیزوں کے ساتھ عمل کیا جائے سو ایک بار پھر سے تمہیں اپنے لئے ایک جگہ چُننی ہوگئی اور سال بھر کے لئے وہاں رہنا ہوگا اور سال کے آخری دن پر تمہیں کھانے کی اجازت ہوگی ۔ بس صرف تم نے سونا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شراب پینی ہے سو تب تم پر نید غالب نہیں آئے گئی سب سے اہم چیز یہی ہے کہ تمہیں نید سے گُریز کرنا ہوگا ۔ سو وہ گیا اور اُس نے ایسا ہی کیا اور سال کے آخری دن پر جیسا کہ وہاں جا رہا تھا اُسے ایک بہتا ہوٗا چشمہ دیکھائی دیا اور چشمہ سرخ تھا اور اُس کی خوشبو بھی شراب جیسی تھی اُس نے اپنے خادم سے پوچھا کیا تم یہ دیکھتے ہو کہ یہ ایک چشمہ ہے جو پانی کا ہے مگر اِس کا رنگ لال لال اور اِس کی خوشبو بھی شراب جیسی ہے سو وہ اُس چشمے کے پاس گیا اور اُس نے اُس میں سے پیا اور جیسے ہی اُس نے اُس چشمے میں سے پیا تو وہ نیچے گرِگیا اور ستَر سالوں تک سوتا رہا۔ اِس عرصے کے دوران یہ ہوا کہ سپاہیوں کے بُہت سے لشکر مال گاڑی کے ساتھ چلے گئے اور اُس کے خادم نے اپنے آپ کو اُن فوجیوں کی وجہ سے چھُپا لیا تھا اِس کے بعد وہاں ایک پردہ دار گاڑی آئی جس میں بادشاہ کی بیٹی موجود تھی اور شہزادی نے وہ گاڑی اُس کے قریب جا کر روکی سو وہ گاڑی سے اُتری اور جا کر اُس کے ساتھ بیٹھ گئی اور شہزادی نے اُسے پہچان لیا اور اِسی نے اُس کو بُلایا جگانے کیلئے لیکن وہ اَب تک بھی نید سے بیدار نہیں ہوا تھا سو شہزادی نے اُس پر ماتم کیا اور کہا کہ بُہت سالوں سے تم نے اِس کے لئے بُہت زیادہ سخت محنت اور جانفشانی کی مگر تم مُجھ یہاں سے نکالنے میں ناکام ہوگئے ۔ اور اُس ایک دن کی وجہ سے جب تم نے مُجھے یہاں سے باہر نکالنا تھا تو تم نے اپنا سب کچھُ کھو دیا ۔ اور شہزادی اِس بات پر بُہت روئی اور کہا کہ تم پر اور مُجھ پر بُہت بڑا افسوس ہے کیونکہ میں یہاں ایک طویل عرصے سے رہ رہی ہو ں اور یہاں سے نکل نہیں پا رہی ہوں ۔ اِس کے بعد اُس نے سر سے اپنا ڈُوپٹہ اُتارہ اور اُس پر اپنے آنسوں کے ساتھ لکھا اور وہ ڈُوپٹہ اُس نے اُس کے پاس رکھ دیا ۔ سو وہ اُس کہ پاس سے اُٹھی اور گاڑی میں بیٹھ کر دُور چلی گئی اِس کے بعد وہ نیند سے جاگا اور اپنے خادم سے پوچھا میں اِس وقت کہاں ہوں اُس کے خادم نے اُسے تمام کہانی بتائی کہ فوجیوں کے بُہت سے لشکر گزر گئے اور یہاں ایک پردہ دار گاڑی بھی آئی جس میں شہزادی بھی بیٹھی تھی اور شہزادی تم پر روئی اور کہا ہائے تم پر اور مجھُ پر بُہت بڑا افسوس ہے اِس دوران اُس نے غور کیا اور دیکھا کہ ایک ڈُوپٹہ اُس کے قریب پڑا ہوا ہے ۔ اُس نے اپنے خادم سے پوچھا کہ یہ ڈُوپٹہ کہاں سے آیا اُس نے جواب دیا یہ ڈُوپٹہ شہزادی تمہارے پاس چھوڑ گئی تھی اور اِس پر اُس نے اپنے آنسوؤں سے لکھا ہے سو اُس نے وہ ڈُوپٹہ اُٹھایا اور اُسے سورج کی طرف کر کے دیکھا اُس پر شہزادی کا نوحہ اور ماتم لکھا ہوا تھا ( جس کے بارے میں اُوپر بیان کیا گیا ہے ) اور اَب میں محل میں نہیں رہتی ہوں بلکہ اَب تم کو سونے کے پہاڑ کی تلاش کرنی ہوگی جو موتیوں سے بنے ہوے محل کے ساتھ ہو وہاں میں تم کو مِلوں گی سو اَب وہ آدمی اُٹھا اور اُپنے خادم کو پیچھے چھوڑگیا ۔ اَب وہ کیلا ہی شہزادی کی تلاش میں نکل گیا اُس نے کہی سالوں تک شہزادی کی تلاش کی اور اُ س نے اِس بات پر غور کیا کہ میں مسُتقل ایک ہی جگہ پر اور یہاں پر مُجھ وہ سنُہری پہاڑ اور موتیوں کا محل نہیں مِلے گا ۔ کیونکہ وہ دُنیا کا نقشہ پہچاننے میں ماہر آدمی تھا سو اُس نے ارادہ کیا کہ میں صحرا میں جاؤگا اور وہاں اُسے ڈھونڈوں گا اور وہ شہزادی کیلئے کہی سالوں تک صحرا میں تلاش کرتا رہا اِس کے بعد اُس نے بُہت بڑا آدمی دیکھا اور آدمی کی جسامت عام اِنسان سے بُہت بڑی تھی اور وہ ایک بُہت بڑا درخت اُٹھا کر جا رہا تھا ۔ اور ایک ایسے علاقہ میں ایسا بڑا درخت آج تک کبھی نہیں مِلا ۔ اور اُس بڑے آدمی نے اُس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اُس نے جواب دیا میں اِنسان ہوں وہ بڑا آدمی بُہت حیران ہوا اور اُس نے کہا میں کافی عرصے یہاں ہوں اور آج سے پہلے میں نے کبھی بھی کسی اِنسان کو یہاں نہیں دیکھا ۔ اُس آدمی نے اُسے اپنی تمام کہانی بتائی جس کا اُوپر زکر کیا گیا ہے کہ وہ یہاں سونے کے پہاڑ کی تلاش میں ہے جو موتی محل کے ساتھ ہے ۔ اُس نے یہ جواب دیا کہ اِس بات کا یقین کیسے کیا جائے کیونکہ یہاں کوئی بھی ایسی چیز موجود نہیں اور اُس نے اُسے یہ بتانے کی کوشش کی کہ تم بیوقوفی کی باتیں کررہے ہو کیونکہ حقیقت میں ایسا کچھُ بھی نہیں ہے اور وہ آدمی جو بادشاہ کا وزیر تھا بُہت رونا شروع کردیا اور کہا یقیناًوہ موجود ہے اور اُس کو ڈھونڈنا پڑے گا ۔ یہ ممکن ہے کہ دُنیا میں اُسے کہیں تلاش کیا جا سکتا ہے اور اُس جنگلی آدمی نے اُسے سمجھایا اور کہا تم بے کار میں اِس بات پر قائم ہوگئے ہو ۔مگر وزیر نے اُس کی بات نہ مانی اور اپنی بات پر قائم رہا تب اُس جنگلی آدمی نے کہا دیکھو میں تمہارے حق میں ایک کام کر سکتا ہوں کیونکہ میں تمام جنگلی جانوروں کا سردار ہوں اور اِس کے بعد اُس نے تمام جنگلی جانوروں کو بُلایا اور بڑے سے لیکر چھوٹے تک سب آئے اور اُس نے اُن جانوروں کو پوچھا اور سب نے جواب دیاکہ نہیں ہم نے ایسا کُچھ بھی نہیں دیکھا ۔ تب اُس بڑ آدمی نے اُس وزیر سے کہا کہ کیا تم نے دیکھا کہ سب کچھُ جو تمہیں بتایا گیا ہے جھوٹ ہے اگر تم میری سُننا چاہتے ہو تو میرے پاس واپس آؤ کیونکہ یقینی طور پر دُنیا میں ایس کچھُ بھی موجود نہیں اِس کی تلاش مَت کرو۔ اور اُس وزیر نے اِس بات پر زور دے کر کہا کہ نہیں تم غلط ہو دُنیا میں یہ سب کچھُ یقینی طور پر ہے اُس بڑے آدمی نے اُس سے بولا کہ دیکھو آگے صحرا میں میرا ایک اور بھائی ہے وہ تمام پرندوں کا سردار ہے ۔ شاید وہ تمہاری مدد کرسکے کیونکہ وہ پرندے ہوا میں بُہت اُنچا اُڑتے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ پرندے اُس پہاڑ اور محل کو دیکھ لیں ۔ میرے اُس بھائی کے پاس جاؤ اور اُسے بتاؤ کہ میں نے تمہیں اُس کے پاس بھیجا ہے اور وہ آدمی روانہ ہوگا اور کئی سالوں تک اُس کی تلاش میں رہا اور دوبارہ اُسے وہاں ایک بُہت بڑا آدمی دکھائی دیا جو ایک بُہت بڑا درخت اُٹھا کر جا رہا تھا اور اُس آدمی نے اُس وزیر سے پوچھا ۔ اور اُس نے اُس کو اپنی تمام کہانی بتائی کہ مجھُے اُس کے بھائی نے بھیجا ہے اور اُس آدمی نے اُس وزیر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں دُنیا میں ایسا کچھُ بھی موجود نہیں ہے اور اُس وزیر نے اُسے جواب دیا یہ ضرور موجود ہوگا۔ سو اُس بڑے آدمی نے اُس سے کہا کہ دیکھو میں تمہارے حق میں یہ کام کر سکتا ہوں کیونکہ میں تمام پرندوں کا سردار ہوں میں اُن کو بُلاتا ہو ں اور اُن کو حُکم کر تا ہوں کہ وہ تمام دُنیا میں جائیں اور اِس چیز کا پتہ لگا کر آئیں کہ واقع میں ایسا ہے کہ نہیں اور پھر بعد میں اُس نے تمام پرندوں کو واپس بُلایا اور بڑے سے لیکر چھوٹھے تک سب آئے اور اُس بڑے آدمی نے اُن پرندوں سے یہ پوچھا کہ دُنیا میں یہ سب چیزیں موجود ہیں کہ نہیں اور پرندوں نے جواب دیا کہ نہیں ایسا کچھُ بھی نہیں ہے تب اُس بڑے آدمی نے اُس وزیر کو کہا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ سب جھوٹ ہے اور دھوکا ہے ۔ اِن باتوں کی کچھُ اصلیت نہیں اگرتم میری سُننا چاہتے ہو تو میری طرف دوبارہ واپس آؤ مگر وزیر نے سخت ضد کا اظہار کرتے ہوئے کہا نہیں میں اِن باتوں کا دِل سے یقین رکھتا ہوں دُنیا میں ایسا ضرور موجود ہوگا ۔ اُس بڑے آدمی نے اُس شخص کو بولا دیکھو آگے صحرا میں میرا ایک اور بھائی مِلے گا جو تمام ہواؤں کا حاکم ہے اور وہ ہوائیں ساری دُنیا میں چلتی ہیں شاید وہ اِس کے بارے میں جابتی ہوں سو وہ شخص چلا گیا اور بُہت سالوں تک اُس کی تلاش میں رہا اور پھر دوبارہ اُسے ایک اور بڑا آدمی ملِا جو ایک بڑا درخت اُٹھائے ہوئے تھا ۔ اور اُس بڑے آدمی نے اُس وزیر سے پوچھا اور اُس نے اُس آدمی کو اپنی تمام کہانی سُنائی اور پہلے کی طرح اُس آدمی نے بھی اُسے یہ سمجھانا چاہا کہ دُنیا میں ایسی کوئی بھی چیز موجود نہیں یہ سب جھوٹی باتیں ہیں مگر وزیر اپنی بات پر قائم رہا کہا کہ میں اِن باتوں کا یقین کرتا ہوں۔ پھر اُس بڑے آدمی نے اُس وزیر کو کہا میں تمہاری یہ مدد کرسکتا ہو کہ میں تمام ہواؤں کو حُکم کرونگا اور وہ تمام دُنیا کا چکر لگا کر آئیں گئیں اور بتائیں گئیں کہ دُنیا میں یہ چیزیں موجود ہیں کہ نہیں اور پھر بعد میں ایسا ہوا کہ اُس بڑے آدمی نے تمام ہواؤں کو بُلایا اور اُن سے پوچھا اور اُن ہواؤں نے جواب دیا کہ دُنیا میں ایسا کچھُ بھی موجود نہیں ہے تب بڑے آدمی نے اُس وزیر کو کہا کیا تم نہیں دیکھتے یہ سب بکواس ہے اور وہ وزیر یہ بات سُن کر بُہت رونا شروع ہوگیا اور اُس نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے دُنیا میں یہ سب موجود ہے میں اِس کا یقین کرتا ہوں کچھُ دیر بعد اُس نے نظر اُٹھا کر دیکھا کہ ایک اور ہوا چلی آرہی ہے اُس بڑے آدمی نے جو ہواؤں کا سردار تھا ۔ اُس ہوا سے پوچھا کہ تم اِتنی دیر سے کیوں آئی ؟ کیا میں نے حُکم نہیں کیا تھا کہ ساری ہوائیں حاضر ہوں پھر تم اِن کے ساتھ کیوں نہ آئی؟ پھر اُس ہوا نے جواب دیا کہ مُجھے دیر اِس لئے ہوگئی کیونکہ میں بادشاہ کی بیٹی شہزادی کو سُنہرے پہاڑ اور موتیوں کے محل تک لے گئی تھی ۔جیسے ہی اُس وزیر نے یہ سُنا تو وہ نہایت ہی خوش ہوا کہ جس بات کی اُسے سُننے کی خواہش تھی وہ پوری ہوگئی پھر اُس بڑے آدمی نے اُس ہوا سے پوچھا کہ وہاں بیش قیمتی کیا چیز ہے اور کِن کِن چیزوں کو وہاں اہم اور قیمتی سمجھا جاتا ہے ؟ ہوا نے جواب دیا وہاں سب کُچھ قیمتی ہے ۔ ہواؤں کے سردار نے اُس وزیر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم کافی لمبے عرصے سے اُس شہزادی کی تلاش میں ہو اور تم نے اِس کام کے لئے بُہت زیادہ کوشش بھی کی ہے اور ابھی ایسا نہ ہو کہ تمہیں پیسوں کے معاملے میں کسی رُکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے اِس لئے میں تمہیں ایک برتن دیتا ہوں کہ جب کبھی تم اِس برتن میں اپنا ہاتھ ڈالو گے تو تمہیں اِس میں سے پیسے مِلیں گے اُس بڑے آدمی نے اُس ہوا کوحُکم دیا کہ اِس وزیر کو اُس جگہ پہنچا دے۔ سو وہ طوفانی ہوا آئی اور اُس نے اُس وزیر کو وہاں پہنچا دیا اور وہ ہوا اُسے دروازے تک لے گئی اور وہاں فوجیوں کے بڑے بڑے لشکر کھڑے تھے اور وہ اُس وزیر کو شہر کے اندر جانے سے روک رہے تھے ۔ سو اُس وزیر نے اپنا ہاتھ اُس برتن میں ڈالا اور اُس میں سے کچھُ پیسے نکالے اور وہ رشوت جا کر اُن فوجیوں کو دے دی اور اُنہوں نے اُسے اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ شہر نہات ہی خوبصورت تھا اور پھر وہ وزیر ایک امِیر شخص کے پاس گیا اور ایک کمرہ اپنے لئے کرایہ پر لیا اور کُچھ کھانا بھی پھر وہ وزیر کچھُ وقت کے لئے وہاں ٹھہرا رہا کیونکہ اُسے گہری سوچ اور سمجھ چاہے تھی کہ کس طرح شہزادی کو وہاں سے باہر نکالے ۔ ( اور اُس نے شہزادی کو وہاں سے کیسے نکالا یہ اُس نے نہیں بتایا ) اور آخر میں وہ شہزادی کو وہاں سے باہر لے گیا ۔

آمین ۔ سلاہ
