# قیمتی پتھروں کا شہزادہ

ربی نحمن براسلوو کی کہانیوں میں سے۔

מקור: https://rabenu.app/books/ur-5/

---

## قیمتی پتھروں کا شہزادہ

قیمتی پتھروں کاشہزادہ۔۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ کاذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھاجسکا کو ئی بھی بیٹا نہیں تھا۔وہ بہت سے ڈاکٹروں کے پاس گیا اپنے خاندان کو چھوڑ کراپنی سلطنت کو قائم رکھنے کے لئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔سو اُس نے یہودیوں کو یہ حکم کیاکہ وہ اُسکے لئے دُعا کریں تا کہ اسکے بیٹے ہوں۔ یہودیوں نے ایک راستباز ’’ زادیک‘‘کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جو بہت مو ثر طریقے سے بادشاہ کے بٹیے ہونے کے لئے دُعا کریں۔آخر کار اُنہوں نے وہ پوشدہ راستباز ’’ زادیک‘‘ڈھونڈہی لیا اُنہوں نے اُسے کہا کہ وہ بادشاہ کے بٹیے ہونے کی لیے دُعا کرے۔لیکن اُس نے جواب میں کہا کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کس طرح سے ہوگا۔ اُنہوں نے بادشاہ کو بتا یا پھر بادشاہ نے اُسکے لیے حکُم بھیجااور وہ بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔بادشاہ نے اُسے اچھے طریقے سے بات کرناشروع کی جیساکہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ یہودی میرے ہاتھ میں ہیں اور میں جو چاہوں اُن کے ساتھ کر سکتا ہوں۔اس لیے میں تم سے اچھی طرح سے کہتا ہو ں کہ میرے بیٹے ہونے کے لیے دُعا کرو اُس راستباز ’’ زادیک‘‘نے بادشاہ سے وعدہ کیا کہ ایک سال کے اندر اندر اُسکے پاس اولاد ہو گی۔وہ راستباز ’’ زادیک‘‘اپنے گھر کو گیا اور آخر کار ملکہ نے ایک بیٹی کو جنم دیایہ بیٹی انتہائی خوبصورت تھی جب وہ چار سال کی تھی تو وہ پہلے سے ہی تمام حکمتوں کو جانتی تھی اور تمام موسیقی آلات کو بجاسکتی تھی اور وہ تمام زبانیں بولنا بھی جانتی تھی ۔ سارے ملُکوں سے بادشاہ اسے دیکھنے کو آئے اور وہاں بادشاہ کے لیے بڑی خوشی ہوئی ۔ لیکن بادشاہ ابھی بھی بیٹا پاناچاہتا تھا اس لیے کہ کہیں اسکی بادشاہی اسکی نسل سے محروم نہ رہے جائے لہٰذا اُس نے دوبارہ یہ فیصلہ کیا کہ یہودی اُسکے بیٹا پیدا ہونے کے لیے دُعا کریں اور دوبارہ سے اُنہوں نے راستباز ’’ زادیک‘‘کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں وہ نہیں ملا کیونکہ وہ مر چکا تھا۔ سو وہ لگاتار ڈھونڈتے رہے جب تک کہ اُنہیں دوسرا پوشیدہ راستباز ’’ زادیک‘‘نہ مل گیا ۔سواُنہوں نے اُسے کہا کہ وہ بادشاہ کے بیٹے پیدا ہونے کے لیے دُعا کر ئے اور اُس نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتا کہ یہ کیسے ہوگا۔اُنہوں نے بادشاہ کو بتایا اور بادشاہ نے ویساہی کیا جیسا اُس نے پہلے سے کیا تھا بادشاہ نے اُس سے کہا’’جیسا کہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو وغیرہ وغیرہ‘‘

لیکن بزرگ نے(اِس راستبا ز ’’ زادیک‘‘نے) بادشاہ سے کہا کہ تم ایسا ہی کرو گے جیسا میں کہوں گا ۔ بادشاہ نے کہا ’’یقینا‘‘ ۔

بزرگ نے کہا مجھے اِس کی ضرورت ہے کہ آپ مختلف قسم کے قیمتی پتھروں کو لائیں ہر ایک قیمتی پتھر میں ایک منفرد خوبی ہوگی (بادشاہ ایک ایسی کتاب رکھتا تھا جس میں تمام مختلف اقسام کے قیمتی پتھروں کے بارے میں لکھا ہوا تھا )

بیٹا ہونے پر میں اپنی آدھی سلطنت تک دے دونگا ۔ ’’ بادشاہ نے کہا ‘‘

سو بادشاہ نے تمام مختلف اقسام کے قیمتی پتھروں کو لیا اور اُنہیں اُس کے پاس پہنچایا ۔ بزرگ نے اُنہیں لیا اور اُن کو بلکُل زرہ زرہ کر دیا اور اِن کو مے کے پیالا میں ڈال دیا اُس نے آدھا پیالا بادشاہ کو دیا کہ اِسے پیئے اور دوسرا آدھا پیالا ملکہ کو دیا ۔

اُس نے اُنہیں بتایا کہ اُنکا بیٹا پیدا ہوگا جو مکمل طور پر قیمتی پتھروں سے بنا ہوگا اور وہ تمام قیمتی پتھروں کی ساری خصوصیات رکھتا ہوگا تب وہ راستباز ’’ زادیک‘‘ اپنے گھر کو چلا گیا ۔ آخر کار ملکہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا اور بادشاہ بُہت ہی زیادہ خوش ہوا اگرچہ یہ بیٹا قیمتی پتھروں سے نہیں بنا ہوا تھا جب وہ چار سال کا تھا وہ نہایت ہی خوبصورت تھا اور تمام علم کے بارے میں حکمت اور دانائی رکھتا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ تمام زبانیں کیسے بولی جاتی ہیں بُہت سے بادشاہ اِسے دیکھنے کیلئے دور سے آئے ۔

اب اُس شہزادی نے دیکھا کہ اِس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اِس لئے وہ اِس لڑکے سے حسد کرنا شروع ہوگئی اُس کی تسلی صرف یہ تھی کہ ’’ یہ لڑکا مکمل طور پر قیمتی پتھروں سے بنا ہوا نہیں ہے ‘‘وہ خوش تھی کہ ایسا نہیں ہے ۔

ایک مرتبہ شہزادہ لکڑی کاٹ رہا تھا کہ لکڑی کاٹتے وقت اِس کی انگلی کٹ گئی شہزادی گئی کہ اِس کی انگلی کو پٹی باندھے اور اُس نے وہاں قیمتی پتھر دیکھا اور وہ شدید حسد سے بھر گئی۔

شہزادی بہانہ کرکے بیمار پڑھ گئی ڈاکٹر اُسے دیکھنے آئے مگر وہ اُس کا علاج کرنے میں ناکام ہوگئے لہٰذا جادوگروں کو بُلایا گیا شہزادی نے جادوگروں میں سے ایک پر بھروسہ کیا اور اُسے بتایا کہ وہ جھوٹا بہانا کرکے بیمار ہوئی ہے ۔ اُس نے اُس جادوگر سے پوچھا کہ کیا وہ کسی پر بھی جادو کر کے اُس کو کوڑھی بنا سکتا ہے ؟ ’’ ضرور ‘‘ جادوگر نے جواب دیا ۔

سو شہزادی نے اُس سے پوچھا لیکن کیا اگر کوئی دوسرا جادوگر آتا ہے جو اِس جادو کے اثر کو ختم کر سکتا ہے تو کیا وہ شفا پا سکتا ہے ؟

اگر وہ چیز جو جادو کرنے کیلئے استعمال ہوئی ہو پانی میں ڈال دی جائے تو یہ جادو کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتا جادوگر نے جواب دیا ۔

(سو یہ شہزادے کیلئے کیا گیا) اور جو چیز جادو کرنے کیلئے استعمال ہوئی تھی اُسے پانی میں ڈال دیا گیا ۔

شہزاد کو بُہت سخت کوڑھ ہوگیا اور اُس کی ناک چہرے اور سارے جسم پر زخم ہی زخم ہوگئے بادشاہ نے ڈاکٹروں اور جادوگروں کو بُلایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

سو بادشاہ نے یہودیوں کو یہ حُکم دیا کہ وہ اُس کے بیٹے کیلئے دُعا کریں اُنہوں نے کوشش کی اور ڈھونڈا اور وہ راستباز ’’ زادیک‘‘ جس کا زکر اُوپر کیا گیا تھا ۔ اُنہیں مِل گیا وہ اُسے بادشاہ کے پاس لے گئے اب یہ راستباز ’’ زادیک‘‘ مُسلسل خُدا سے اِس شہزادے کے حق میں دُعا کرتا رہا اگرچہ اُس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ شہزادہ مکمل طور پر قیمتی پتھروں سے بنا ہوگا ۔ اور وہ ایسا نہیں تھا ۔اُس نے خُدا کے ساتھ یہ بحث کی کہ کیا یہ سب کُچھ میں نے اپنی عزت کیلئے کیا تھا ؟ نہیں بلکہ یہ سب کُچھ میں نے تیری عزت کیلئے کیا تھا اور اب میرا وہ وعدہ پورا نہیں ہوا ۔

راستباز ’’ زادیک‘‘ بادشاہ کے سامنے آیا اور اُس نے بھی دُعا کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا تب اُسے یہ معلوم ہوا کہ یہ سب جادو ہے اب یہ راستباز ’’ زادیک‘‘ اُن تمام جادوگروں سے زیادہ طاقتور تھا تب راستباز ’’ زادیک‘‘ نے بادشاہ کو بتایا کہ یہ سب جادوگر نے کیا ہے اور وہ چیز پانی میں بھی ڈال دی گئی ہے جس سے جادو کیا گیاتھا ۔ شہزادے کو ٹھیک کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اُس جادوگر کو پانی میں ڈال دیا جائے جس نے جادو کی چیز کو پانی میں ڈالا تھا ۔

اِس کے نتیجے میں میَں تمام جادوگروں کو تمہارے ہاتھ میں دیتاہوں کہ ان سب کو پانی میں ڈال دیا جائے تاکہ میرا بیٹا شفا پا سکے

’’ بادشاہ نے کہا ‘‘ اِس بات پر شہزادی بُہت زیادہ پریشان ہوگئی سو وہ پانی کی طرف بھاگی کہ اُس چیز کو پانی سے باہر نکالے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ چیز پانی میں کہاں ہے مگر اِس عمل کے نتیجے میں وہ پانی میں گرِگئی شہزادی کے پانی میں گرِنے پر ایک بُہت بڑا شور ختم ہوگیا ۔

تب وہ راستباز ’’ زادیک‘‘ آگے کو آیا اور کہا کہ شہزادہ ٹھیک ہو جائے گا ’’ یقیناً‘‘ وہ ٹھیک ہوگیا تھا ۔ اور اُس کا سارا کوڑھ خُشک ہوگیا اور اُس کی ساری جِلد اُتر گئی ۔ ( سو اب سب یہ دیکھ سکتے تھے کہ ) وہ یقیناًمکمل طور پر قیمتی پتھروں سے بنا ہوا ہے اور وہ اپنے اندر قیمتی پتھروں کی تمام خوبیاں رکھتا ہے ( جیسا کہ اُس راستباز ’’ زادیک‘‘ نے کہا تھا )
