مفلُوج کی کہانی ۔
ایک مرتبہ کا زکر ہے کہ یہاں ایک عقلمند آدمی تھااُس آدمی کے انِتقال سے پہلے اُس نے اپنے بیٹوں اور اپنے خاندان کو اپنے پاس اِکھٹا کیا۔ اوراُنہیں وصیت کی کہ وہ درختوں کو پانی دیں اُنہیں اپنی زندگی گزارنے کیلئے دوسرے طریقوں سے بھی کمانے کی اجازت تھی۔ مگر اُن کو خاص محنت درختوں کو پانی دینے میں کرنی تھی ۔ اِس کے بعد وہ عقلمند آدمی اِنتقال کر گیا اور اپنے بیٹے پیچھے چھوڑ گیااور اُس کا ایک ایسا بیٹا تھا جو چل نہیں سکتا تھا اور اُس کے بھائی اُسے زندگی بسر کرنے کیلئے کافی سہولیات فراہم کیا کرتے تھے ۔ وہ اِسے اتنا زیادہ فراہم کیا کرتے تھے کہ اُس کے پاس کُچھ پیچھے بھی بچ جاتا تھا اور اُس کا یہ بیٹا تھوڑا تھوڑا کرکے جمع کرتا گیا جو اُس کی معیشت میں سے پیچھے بچ جاتا تھا اور وہ تب تک جمع کرتا گیا جبَ تک اُس نے کافی رقم جمع نہ کرلی۔ تب اُس نے اپنے آپ سے کہا کہ مُجھے اِن کی طر ف سے میرا حصہ کیوں نہیں ملنا چائیے یہ اچھا رہے گا کہ میں کوئی اپنا کاروبار شروع کرلوں،، اگر چہ میں چلنے قابِل نہیں ہوں۔ اور اُس نے ایک گاڑی کرایہ پر لینے کا فیصلہ کیا اور ایک وفادار خادم اور ڈرائیور اپنے ساتھ رکھا اور اُن کے ساتھ لائپ سیکھ(شہر جہاں بڑی منڈی تھی)کی طرف روانہ ہوگیا ۔ یہاں وہ اپنا کاروبار کر سکتا تھا اگرچہ وہ چل پھر نہیں سکتا تھا تو بھی۔ جب اُس کے خاندان والوں نے سُنا تو وہ سب بُہت خوش ہوئے اور کہا کہ ہمیں اُس کا حصہ کیوں نہیں دینا چائیے؟ یہ اچھا رہیگا کہ وہ اپنے معیشت کا انتظام خود کرے اور اُنہوں نے اُسے اور بھی زیادہ پیسہ دیا تاکہ وہ اپنا کاروبار چلا سکے ۔
اور اُس نے ایک گاڈی کرایہ پر لی اور ایک ڈرائیور اور ایک خادم اپنے ساتھ لیا اور اپنا سفر شروع کیا۔وہ ایک سرائے میں آئے اور اُس کے خادم نے کہا کہ اُنہیں یہاں رات بھر کیلئے رُکنا چائیے اور وہ اِس بات پر راضی نہ ہوا اُنہوں نے اُسے راضی کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا ۔ پھر وہ آگے کی طرف روانہ ہوئے اور جا کر جنگل میں کھوگئے او ر ڈاکوں اُن پر حُملہ کردیا ۔ وہ ڈاکو لوُٹ اِس لئے رہے تھے کیونکہ وہاں قحط تھا۔ کہا نی کے مطابق وہ آدمی اپنے شہر میں آیا اور علان کیا کہ اگر کسی کو خوراک چائیے تو وہ میرے پاس آئے اور بُہت سے لوگ اُس کے پاس جمع ہوگئے اور اُس نے چالاکی سے کام کیا وہ اُسے مُسترد کر دیتا تھا جسے وہ جانتا تھا کہ مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ ایک سے کہتا کہ تم کاریگر بن سکتے ہو اور دوسرے سے یہ کہتا کہ تم ایک مِل میں کام کرسکتے ہو ۔ اُس نے صرف چالاک اور ان آدمیوں کو ہی چُنا اور وہ اُن کے ساتھ جنگل میں چلاگیا اور وہاں اُس نے اُن سے کہا کہ اُنہیں ڈاکو بننا پڑے گا ۔ یہ روڈ لائپ سیکھ برسلووں ( شہروں کے نام) اور دوسرے شہروں کی طرف جاتے تھے ۔ تاجر وہاں سے گزرتے ہیں سو ہم اُن کو لوٹیں گے اور اُن سے پیسے جمع کریں گے(ڈاکوں نے یہ سب کچھ ٹاؤن میں اُنہیں بتا یاتھا)۔
اور ڈاکوں نے اُس مفلوج بیٹے پر حملہ کیا( جو چل نہیں سکتا تھا اور اُس کے آدمیوں پر بھی)۔ سو وہ خادم اور ڈرائیور فرار ہوگئے وہ مفلوج بیٹا پیچھے گاڈی میں ہی رہ گیا ڈاکو آئے اور پیسوں کو الماری سمت ہی لے گئے اُنہوں نے اُس سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟ اُس نے اُنہیں بتا یا کہ میں چل نہیں سکتا سو وہ الماری اور گھوڑوں کو لُوٹ کر لے گئے اور وہ پیچھے گاڑی میں ہی رہ گیا۔
اور وہ خادم اور ڈرائیور جو بھاگ گئے تھے اُس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے مالکوں سے اُدھار لیا اور معاہدے کئے ہوئے تھے وہ اپنے گھروں کو واپس کیوں جاتے کیونکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے یہ بہتر رہے گا کہ وہ یہاں ہی رہ جائیں (جہاں وہ بھاگ گئے تھے) اور وہ یہاں ڈرائیور اور خادم بن کر رہنے لگے اور لنگڑا بیٹا اُس کھانے میں سے کافی دیر تک کھاتا رہا جو اُس نے گھر سے لیا تھا ۔ وہ خشک روٹی جو اُس کے پاس گاڑی میں تھی اُس نے یہ کھائی اِس کے بعد جب یہ ختم کرچُکاتو اُس کے پاس کھانے کو کُچھ بھی نہ بچا تو اُس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اَب آگئے کیا کیا جائے اور اُس نے اپنے آپ کو گاڑی سے نیچے گِرادیا کہ گھاس کھائے وہ میدان میں رات گُزارتا تھا تنہا اور خوفناک اُسے اپنی طاقت کا احساس ہوا کہ وہ کھڑا نہیں ہوسکتا صرف رینگ سکتا ہے اور اُس نے اپنے اِرد گرد سے گھاس کھائی ۔ جب تک کہ وہ باہر نہ پہنچ جائے اور کھا نہ سکے اور اُس نے وہ گھاس کھا لی اِس کے بعد جب وہ اپنے آس پاس سے ساری گھاس کھا چُکا تو وہ باہر تک پہنچ نہ سکا اور اُس نے خود کو آگے بڑھایا اور وہاں سے وہ کبھی کبار گھاس کھا لیتا تھا۔
ایک بار جب وہ گھاس کے پار آ چُکا تو اُس نے ابھی تک اِس گھاس کو نہیں کھایا تھا اور اِس گھاس نے اُسے بُہت خوش کیا کیونکہ وہ ایک طویل وقت سے گھاس کھا رہا تھا اور اُس نے اِس گھاس کو پہچاننا کیونکہ اُس نے ابَ تک ایسی گھاس نہیں دیکھی تھی ۔ اُس نے اِس گھاس کو جڑ سے اُکھڑنے کا فیصلہ کیا اور وہاں اُس کی جڑ کے نیچے ایک ہیرا تھا ۔ اور اُس ہیرے کے چار کونے تھے اور ہر کونے کی مختلف طلسمی خوبی تھی اور اُس کی ایک طرف یہ لکھا ہوا تھا کہ جو کوئی بھی اِس کونے کو پکڑے گا اُسے اُس جگہ پر لے جایا جائے گا جہاں دن اور رات ایک ساتھ ہوں یعنی کہ سورج اور چاند ایک ساتھ ہوں ۔
(سو جب اُس نے گھاس کی جڑکو اُکھیڑا جہاں ہیرا تھا تو اُس نے ہیرے کے کونے کو پکڑا اور وہ اُسے وہاں لے گئے جہاں دن اور رات ایک ساتھ مِلتے ہیں)سو اُس نے نظر کی اور دیکھا کہ وہ اُس جگہ پر تھا ( جہاں سورج اور چاند ملتے تھے) سورج اور چاند ایک ساتھ ہوتے ہیں۔
اُس نے سُنا کہ سورج اور چاند گپ شپ کر رہے ہیں سورج چاند سے یہ شکایت کر رہا تھا کہ یہاں ایسا درخت ہے جِس کی بُہت ساری شاخیں پھَل اور پتے ہیں اور ہر ایک شاخ اور پھَل اور پتے کی خاص خوبیاں ہیں۔ ایک لڑکے بنائے کیلئے موثر ہے ایک معیشت کیلئے موثر ہے اور ایک بیماری کا علاج کرنے کیلئے موثر ہے اور ایک چیز اور کسی چیز کے لئے موثر ہے ۔
اور اُنہیں اِس درخت کو پانی دینا چائیے اور اگر اُنہوں نے اِس درخت کو پانی دیا ہے تو یہ اُن کیلئے بُہت موثر ثابت ہوگا۔ یہ نہیں کہ صرف اُس کو پانی دینا چائیے بلکہ اِس پر میری چمک ڈلنے سے میں اِسے خشک کر دیتا ہوں ۔
اور چاند نے جواب دیا (سورج کو) اور کہا کہ تم دوسری پریشانیوں کے بارے میں فکر مند ہو میں تمہیں اپنی پریشانی کے بارے میں بتاتا ہوں میرے پاس ایک ہزار پہاڑ ہیں اور اُن ایک ہزار پہاڑوں کے اِرد گرِد اور بھی ہزاروں پہاڑ ہیں اور وہاں بھوُتوں کی جگہ ہے ۔ بھوُتوں کی ٹانگیں مُرغیوں کی طرح ہیں اُن کی ٹانگوں میں کوئی بھی طاقت نہیں ہے لیکن وہ میری ٹانگوں سے طاقت چوستے ہیں اسی وجہ سے میری ٹانگوں میں بھی کوئی طاقت نہیں ہے میرے پاس دھول ہے جو میری ٹانگوں کیلئے علاج ہے لیکن ہوا آتی ہے اور اُسے دور کر دیتی ہے۔
سورج نے جواب دیا کیا تم اِس لئے فکر کرتے ہومیں تمہیں ایک علاج کے بارے میں بتاتا ہوں یہاں ایک سڑک ہے جو کافی سڑکوں میں تقسیم ہوتی ہے ایک سڑک جو راستبازوں (زادیکیم) کیلئے ہے ۔ وہ ہر قدم پر اُس سڑک کے اُوپر کی دھول پر اپنے پاؤں پھلاتے ہیں ہر قدم جو لیتے ہیں اِس دھول پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک سڑک مفکر ین کیلئے ہے اُنہوں نے اِس دھول کو ہر قدم پر اپنے پاؤں کے نیچے پھلایا اور یہاں ایک اور سڑک پاگلوں کیلئے بھی ہے وہ بھی اپنے پاؤں اِس سڑک کی دھول پر پھیلاتے ہیں اور اِسی طرح کئی سڑکیں اور بھی ہیں مذید یہ کہ ایک سڑک اُن راستبازوں (زادیکیم)کیلئے ہے جو ظالمانہ قائدین قبول کرتے ہیں اور سہتے اور برداشت کرتے ہیں وہ اُنہیں زنجیروں میں لے جاتے ہیں اور تبَ سے اِن راستبازوں (زادیکیم)کی ٹانگوں میں کوئی طاقت نہیں ہے وہ اپنے پاؤں اُس سڑک کی دھول کے نیچے پھیلاتے اور اپنی ٹانگوں میں طاقت حاصل کرتے ہیں سو تمہیں وہاں جانا چائیے ہے جہاں بُہت ساری دھول ہو تاکہ تم اپنی ٹانگوں کا علاج ڈھونڈ سکو(یہ تمام الفاظ سورج کے ہیں جو اُس نے چاند سے کہے)۔
اور لنگڑے بیٹے نے یہ سب کُچھ سُنا اِس دوران اُس نے ہیرے کی دوسری طرف نظر کی اور اُس نے لکھا ہوا دیکھا کہ جو کوئی بھی اِس کونے کو تھامے گا وہ سڑک پر پہنچایا جائے گا جو سڑک کئی سڑکوں کی طرف سے ہوکر جاتی ہے ۔(یہ وہ سڑک تھی جس کے بارے میں اُوپر بتایا گیا تھا جو سورج چاند کو بتا رہا تھا) اُس نے اِس کونے کو پکڑا اور وہ اُسے وہاں لے گئی اور اُس نے اُس سڑک پر اپنی ٹانگیں رکھیں جس کی دھول اُس کی ٹانگوں کیلئے شفا بخش تھی ۔اور وہ فوراً تندرُست ہوگیا سو رہ گیا اور اُس نے تمام سڑکوں سے دھول اُٹھائی اور اُن کی گٹھریاں بنائیں ۔اور( یہ وہ ہی سڑک تھی )سو اُس نے اپنی طرف سے راستبازوں (زادیکیم)کی سڑک بند کر دی اور اُس نے دوسری سڑکوں کی دھول بھی بند کر دی اُس نے ہر ایک سڑک کو خود سے بند کر دیا اور اُس نے تمام دھول اپنے ساتھ لے گیا۔ اور اُس نے ایک فیصلہ کیا کہ وہ جنگل کی طرف جائے گاجہاں وہ لُوٹا گیا تھا جب وہ وہاں پہنچا تو اُس نے لمبے درخت کو چُنا جو اُس سڑک کے قریب تھا جہاں ڈاکو لُوٹتے تھے اُس نے راستبازوں (زادیکیم)اور پاگلوں کی دھول لی اور اُن کو آپس میں مِلادیا اور پھر سڑک کے اُوپر پھیلا دی اور خود درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا کہ دیکھے کہ اِن کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اور ڈاکو ڈاکوں کے سردار کی طرف سے بھیجے گئے کہ وہاں لُوٹ مار کریں اور جب وہ اُس سڑک پر آئے اور جیسے ہی اُنہوں نے اُس دھول پر قدم رکھا تو وہ راستباز (زادیک) بن گئے ۔ اور وہ اپنی جانوں کیلئے رونا شروع ہوگئے کیونکہ اُنہوں نے اِس سے پہلے کئی جانوں کو لُوٹا اور قتل کیا تھا لیکن چونکہ اِس میں پاگل پن کی بھی دھول تھی تو وہ پاگل راستباز(زادیک) بن گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنا شروع کر دیا اور ایک نے کہا ہم نے لُوٹ مار کی تمہاری وجہ سے اور دوسرے نے کہا نہیں ہم نے تمہاری وجہ سے کیا۔ اور وہ تب تک ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے جب تک اُنہوں نے ایک دوسرے کو مار نہ ڈالا ۔ اور اُس ڈاکوں کے سردار نے ایک اور گروہ بھیجا اور اِس بار بھی وہی ہوا جو پہلے ہوا تھا ۔ اُنہوں نے بھی ایک دوسرے کو قتل کر ڈالا اور اِس کے بعد یہ ہوا کہ تب تک وہ سب قتل ہوگئے تھے ا(وراُس لنگڑے بیٹے کو سمجھ آگئی کہ ابَ سارے ڈاکو قتل ہوچکُے ہیں )اور کوئی بھی پیچھے باقی نہیں چھوٹا سوائے اُس( ڈاکوں کے سردار کے )اور (ایک اور آدمی) جو ڈاکوں کے سردار کے ساتھ تھا ۔وہ بیٹا درخت سے نیچے اُتر آیا اُس نے سڑک سے دھول کو ہٹا دیا اور صرف راستبازوں (زادیکیم) کی دھول کو الگ کر لیا ۔ اور وہ گیا اور دوبارہ درخت پر بیٹھ گیا۔
وہ ڈاکو جو اُن کے درمیان سب سے بڑا تھا اِس بات سے حیران تھا کہ اُس نے تمام( ڈاکوں کو بھیج دیا مگر ایک بھی اُن میں سے اُس کے پاس واپس نہیں آیا) سو وہ خود گیا اور وہ آدمی بھی جو اُس کے پاس رہ گیا تھا ۔ اور جیسے ہی وہ سڑک پر آئے جس پر( اُس بیٹے نے صرف راستبازوں(زادیکیم) کی دھول پھیلائی تھی) تو وہ راستباز (زادیک) بن گئے اور اُس نے چیخنا شروع کر دیا اپنی گذشتہ زندگی کیلئے اور اپنی روح کیلئے کہ اُس نے بُہت سے جانوں کو قتل کیا اور بُہت سی ڈکیتیاں کئی وہ قبروں کے پاس گیا اور معافی مانگنے لگا اُس نے توبہ کی اور وہ شرمندہ ہوا تب (وہ بیٹا جو درخت پر بیٹھا ہوا تھا )اُس نے یہ دیکھا کہ وہ بُہت شرمندہ ہوا اور اُس نے توبہ بھی کی تب وہ درخت سے نیچے اُتر آیا اور اُس ڈاکو نے نظر کی تو اُس نے اُس بیٹے کو دیکھ کر رونا شروع کردیا میری جان کیلئے افسوس ہے کہ میں نے کیا افسوس توبہ کرنا مجھ پر فرض ہے ۔ اُس بیٹے نے اُسے جواب دیا کہ میری الماری مجھے واپس کر دو جو تم مجھ سے لُوٹ کر لے گئے تھے ۔اُنہوں نے ہر چیز کا اندراج دیکھاکہ اِس تاریخ پر اُنہوں نے یہ ڈکیتی کی تھی اور کیا لوُٹا تھا اور کس سے لوُٹا تھا ۔ ڈاکو نے اُسے بتایا کہ میں تمہیں یہ فوری طور پر واپس کر دونگا اور میں تمہیں تمام لوُٹا ہوا خزانہ بھی واپس کر دونگا صرف مجھ پر توبہ کرنا فرض ہے۔ بیٹے نے اُس سے کہا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم شہر میں جاکر رونا اور قرار کرنا کہ میں وہی ہوں جس نے علان کیا اور بولا پھر میں نے ہی کئی قز اقو ں کو نامزد کیا اور کئی جانوں کو مار ڈالا یہی ہے تمہاری توبہ۔ ڈاکو نے اُسے تمام خزانہ دے دیا اور وہ اُس کے ساتھ شہر کو گیا ڈاکو نے سب کیا جو اُس نے کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اور اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اِسی شہر میں اِسے پھانسی دے دیں گئے جہاں اُس نے کئی جانوں کا قتل کیا تھا تاکہ لوگ یہ دیکھ کر سبق سیکھیں ۔
اِس کے بعد وہ بیٹا( جو پہلے لنگڑا تھا )اُس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اُن دو ہزار پہاڑوں پر جائے گا جس کا زکر کیا گیا تھا کہ دیکھے کہ وہاں کیا چل رہا ہے۔ جب وہ وہاں پہنچا تو وہ اُن دو ہزار پہاڑوں سے کُچھ فاصلے پے کھڑا تھا اور اُس نے دیکھا کہ وہاں ہزاروں ہزار ایسے ہزاروں بھوتوں کے خاندان ہیں ۔ کیونکہ وہ اِنسانوں کی طرح بڑھتے ہیں اِس لئے بُہت زیادہ تھے اُسنے دیکھا کہ بھو تو ں کا بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوا ہے اِس طرح کے کبھی بھی کسی اِنسان نے اِن پر قبضہ نہ کیا ہو ۔ اور اُس نے دیکھا کہ وہ آپس میں مزاق کر رہے ہیں ایک نے یہ بتایا کہ اُس نے کس طرح ایک مخصوص بچے کو نقصان پہنچا یا اور دوسرے نے یہ بتایا کہ اُس نے کسی کے ہاتھ کو کس طرح نقصان پہنچایا اور پھر ایک اور نے بتاتاکہ اُس نے بھی کس طرح کسی کے پاؤں کو نقصان پہنچایا اور اِس طرح کے اور کئی مزاق تھے اِسی دوران وہ بیٹا جو پہلے لنگڑا تھا ۔
کیا دیکھتا ہے دو بھوت ہیں جو ماں اور باپ تھے وہ روتے ہوئے چلے آرہے ہیں اُس نے اُن سے پوچھا کہ تم لوگ کیوں رورہے ہو ؟ اور اُنہوں نے جواب دیا کہ اُن کے پاس ایک بیٹا تھا جو بچھڑ گیا اور ایک خاص وقت سے وہ اُن کے پاس لوٹا نہیں اور جب بُہت وقت گُزر چُکا ہے تو ابَ بھی وہ واپس نہیں آیا والدین کوبادشاہ کے پاس لایا گیا اور بادشاہ نے یہ حُکم دیا کہ قاصدوں کو دُنیا بھر میں اِسے تلاش کرنے کیلئے بھیجا جائے( یہ سب ماں باپ جو بھوت تھے اور وہ بیٹا جو پہلے لنگڑا تھا) بادشاہ کی طرف سے ہوکر واپس جا رہے تھے تو وہ کسی سے ملے جو اُن کے بیٹے کا دوست تھا ۔ وہ اُن کے بیٹے کے ساتھ سفر پر گیا تھا (مگر ابَ وہ اُنہیں تنہاملا) اور اُس نے اُن سے پوچھا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ اور اُنہوں نے اُسے بتایا اور اُس نے اُنہیں جواب دیا کہ میں تمہیں بتاؤ گا کہ ہم سمندر میں ایک جزیرے پر تھے جس پر ہم نے اپنی جگہ بنائی بعد میں ایسا ہوا کہ بادشاہ جو جزیرے کا مالک تھا یہاں عمارتیں بنانا چاہتا تھا اور اُس نے یہاں چشموں کو بھی بنایا آپ کے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ(بھوتوں کا بیٹا جو گم ہو گیا تھا) ہمیں اِس بادشاہ کو سزا دینی چائیے لہٰذا ہم گئے اور طاقت لیکر بادشاہ سے دوُر کردی بادشاہ نے ڈاکٹروں کو رجوع کیا کہ مگر وہ اُس کی مدد نہ کرسکے سو اُس نے جادوگروں سے مدد لی وہاں ایک جادوُگر تھا جو آپ کے بیٹے کے خاندان کو جانتا تھا مگر وہ میرے خاندان کو نہیں جانتا تھا اِس لئے وہ مجھے کُچھ نہ کر سکا لیکن جادوُگر اُس کے خاندان کو جانتا تھا( اُس نے اِسے پکڑ لیا اور اُسے شدید ازیت پہنچائی )اور والدین نے اُس بھوت کو اپنے ساتھ لیا جِس نے سب کُچھ اُن کے بادشاہ کو بتایا اور اُس نے دوبارہ سے (بادشاہ کی ماجودگی میں یہ سب کُچھ بتایا )اور بادشاہ نے کہا کہ اُنہیں اُس بادشاہ کی طاقت واپس دینی چائیے ۔ بیٹے کے دوست نے کہا کہ وہاں وہ ہم میں سے ایک تھا جو یہ طاقت نہیں رکھتا تھا اور اُنہوں نے اُسے یہ طاقت دی بادشاہ نے کہا اُنہیں اُس سے وہ طاقت دورُ لے جانے چائیے اور بادشاہ کو واپس کر دینی چائیے ۔اُنہیں نے بادشاہ کو جواب دیا کہ وہ بادل بن گیا ہے ( یعنی کہ جس بھوت کو پہلے طاقت ملی تھی اب وہ بادل بن چکا ہے ) بادشاہ نے کہا کہ انہیں بادل کو بوُلاناچایئے اور اُسے یہاں لیکر آنا چائیے اور اُنہوں نے اُس کیلئے قاصدوں کو بھیجا ۔
( وہ بیٹا جو پہلے لنگڑا تھا) اور یہاں آیا ہوا تھا اُس نے یہ سب دیکھا اور کہا مجھے جانے دو ۔ اور دیکھنے دو کہ اِن لوگوں میں سے وہ کس طرح سے بادل بن گیا وہ قاصد کے بعد گیا ۔اور اُس شہر میں پہنچا جہاں وہ بادل تھا اور اُس نے شہر کے لوگوں سے پوچھا کہ بادل نے شہر کو اِتنا زیادہ کیوں ڈھانکا ہوا ہے ؟ اُنہوں نے اُسے جواب دیا اس کے برعکس عام طور پر یہاں بادل نہیں ہوتا لیکن کُچھ عرصے سے اِس وقت بادل ہمارے شہر کو گھیرے ہوئے ہے ۔ قاصد آیا اور بادل کو بُلایا اور وہ دوُر چلے گئے (سابقہ لنگڑے بیٹے نے) اِن کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا کہ سُنے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور اُس نے سُنا کہ قاصد نے اُس سے پوچھا کہ تم یہاں بادل کیسے بن گئے ؟ اور اُس نے جواب دیا کہ میں تمہیں ایک کہانی بتاتا ہوں ۔
یہاں ایک بزرگ آدمی تھا اُس کے مُلک کا شہنشاہ بُہت ہی بڑا کافر تھا اور اُس نے مُلک کے تمام لوگوں کو بھی کافر بنا دیا تھا۔ یہ بزر گ آدمی گیا اور اپنے تمام خاندان کو بُلایا اور اُن سے کہا کہ تم دیکھتے ہو کہ بادشاہ کتِنا بڑا کافر ہے اور اِس نے تمام مُلک کو بھی کافر بنا دیا ہے اُس نے ہمارے کُچھ رشتے داروں کو بھی بدعتی بنا دیا ہے لہٰذا ہمیں بیابان میں واپس جانے دو تاکہ ہم خُدا پر اپنے ایمان کے ساتھ رہیں وہ مُبارک ہو اور وہ اُس کے ساتھ جانے کو راضی ہوگئے عقلمند آدمی نے وہ نام کہا ( جِس واحد نام کا زکر اُس نے کیا تھا ) اور وہ اُن کو بیابان میں لے گیا مگر بیابان نے اِسے خوش نہیں کیا اور اُس نے وہ نام کہا اور اُن کو مختلف بیابان میں لے گیا لیکن اِس نے بھی اُسے خوش نہیں کیا اور اُس نے دوسرا نام کہا اور اُن کو پھر مختلف بیابان میں لے گیا اور اِس نے اُسے خوش کیا یہ بیابان اُن دو ہزار پہاڑوں کے قریب تھا۔ اور وہ عقلمند آدمی گیا اور اُس نے اپنے بھائیوں کے گِر دائیرہ بنایا تاکہ کوئی بھی اُن کے قریب نہ آسکے اور وہاں ایک درخت تھا ۔ اگر اِس درخت کو پانی دیا جائے تو کوئی بھی بھوت باقی نہیں رہے گا (اِسی وجہ سے ہم میں سے کُچھ بھوت دن اور رات کھڑے رہتے ہیں )اور کھُودائی کرتے ہیں تاکہ پانی درخت تک نہ آسکے قاصد نے اُس سے کہا کہ وہ دن رات یہاں کیوں کھڑے رہتے ہیں اگر وہ پانی کو آنے سے روکنے کیلئے ایک بار کھودیں تو کافی ہے ۔ بادل نے اُسے جواب دیا یہاں ہمارے درمیان مقررین ہیں اور مقررین کی ایک بحث ہے جو بادشاہ اور دوسرے بادشاہ کے درمیان ہے اور یہ جنگ لیکر آ سکتی ہے اور اِس کے نتیجے میں زلزلہ بھی آ سکتا ہے کھودائی کے اِرد گرِد زمین پھیل جاتی اور پانی درخت تک آ سکتا ہے اِس لئے ہمیشہ کھودائی کیلئے تیار رہتے ہیں اور جب ہم سے ایک بادشاہ بن گیا تو لوگ اُسی کی ماجودگی میں ہر قسم کے مزاق اُڑاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ایک مزاق یہ کہ اُس نے بچے کو کس طرح نقصان پہنچایا اور ماں نے اُس پر کس طرح ماتم کیا اور دوسروں نے اور مختلف قسم کے مزاق اُڑاتے ہیں اور جب بادشاہ جشن میں آیا تو وہ اپنی سلطنت کے عظیم آدمیوں کے ساتھ ٹہلنے کو گیا اور اُس نے درخت کُچلنے کی کوشش کی کیونکہ اگر یہاں کوئی بھی درخت نہ ہوگا تو یہ ہم سب کیلئے بُہت اچھا ہوگا ۔اور وہ درخت کو پوری طرح سے ختم کرنے کیلئے بہادری کرنے لگا لیکن جب وہ درخت کے قریب پہنچا تو درخت روز سے چِلایا اور اُس کا خوف اُس پر چھا گیا اور وہ پیچھے ہٹ گیا ۔
ایک مرتبہ ایک نئے بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی اور اُنہوں نے اُس کی ماجودگی میں بڑے مزاق کا مظاہرہ کیا اور وہ عظیم جشن میں آیا اور اُس نے بہادری کی اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ پورے درخت مکمل طور سے کُچل دے گا ۔ وہ اپنے وزیزوں کے ساتھ چلاگیا اور اُس نے بہادری دکھائی اور درخت مکمل طور پر تباہ کرنے لگا مگر جب وہ درخت کے قریب پہنچا تو وہ درخت بڑے زور سے اِس پر چِلّایا اور اُس کا خوف اِس پر چھا گیا اور وہ پیچھے ہٹ گیا وہ بُہت غصے میں واپس چلاگیا اور جب وہ واپس آیا تو اُس نے دیکھا کہ وہ (بزرگ آدمی اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے) اور اُس نے اپنے کُچھ آدمیوں کو بھیجا کہ اِنہیں( نقصان پہنچائے) جیسے کہ اُنہیں کرنے کی عادت تھی جب اُنہوں نے بھوتوں کو دیکھا تو اِنسانوں کے خاندان کا خوف بُہت بڑھ گیا اور اُس بزرگ آدمی نے اُن سے کہا کہ ڈرو مت جب بھوت قریب آئیں گے تو وہ یہاں تک نہیں پہنچ پائیں گے کیونکہ اُن کے گرِد دائیرہ بنا ہوا ہے اُس بھوتوں کے بادشاہ نے دوسرے قاصد کو بھیجا اور وہ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکا اور بھوتوں کا بادشاہ بُہت غصے میں آگیا اور وہ خود سے گیا مگر وہ بھی اُن کے قریب نہ پہنچ سکا ۔
اُس نے بزرگ آدمی سے کہا کہ وہ اِسے اندر آنے دے بزرگ آدمی نے اُس سے کہا کہ چونکہ تم نے پوچھا اِس لئے میں تمہیں بتاؤں گا لیکن یہ راوج نہیں ہے کہ ایک بادشاہ خود سے آئے میں آپ کو ایک اور شخص کے ساتھ بتاؤں گا اور اُس نے اُن کیلئے دائیرہ کھول دیا اور وہ اندر داخل ہوئے اور وہ گیا اور اُس نے پھر سے دائیرہ کو بندہ کر دیا بادشاہ نے بزرگ آدمی سے کہا کہ آپ ہماری جگہ پر کیسے آباد ہوگئے ؟ بزرگ آدمی نے کہا کہ یہ آپ کی جگہ کیوں ہے یہ میری جگہ ہے ۔ بادشاہ نے کہا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو ؟ اُس نے جواب دیا نہیں بادشاہ نے پھر کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟ اور اُس نے خود کو پھیلا لیا اور بُہت بڑا بن گیا جب تک کہ وہ آسمان تک نہیں پہنچ گیا ۔ اور وہ بزرگ آدمی کو نِگل نے کیلئے دھمکانے لگا ۔ بزرگ آدمی نے کہا کہ اِس کے باوجود میں اِن سب سے نہیں ڈرا لیکن اگر میں چاہوں تو تم مجھ سے ڈر سکتے ہو سو وہ گیا اور ایک چھوٹی سی دُعا کی اور ایک بھاری بادل آیا اور وہاں بُہت زور دار بجلیاں چمکیں اُس بجلی نے اُن تمام عظیم آدمیوں کو ہلاک کیا جواُسکے ساتھ تھے اور کوئی بھی پیچھے باقی نہ بچا۔ مگر صرف ایک جو وہاں بادشاہ کے ساتھ تھا دائیرے کے اندر بادشاہ نے اُس سے کہا کہ بجلیوں کو روک دو اور وہ رُک گئیں۔
بادشاہ نے کہنا شروع کیاکہ چونکہ آپ ایک ایسے شخص ہو اور میں آپ کو بھوتوں کے خاندان کی ایک کتاب دونگا ۔ کیونکہ یہاں ایک (ناموں کی تفصیل ہے ) جو صرف ایک خاندان کو جانتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے طور سے اِس خاندان کو نہیں جانتا تھا۔ میں تمہیں یہ کِتاب دونگا جس میں تمام خاندان نامزد ہیں اِس لئے کہ وہ سب بادشاہی دستاویزات میں لِکھے گئے تھے سوائے اُس کے جو اِبھی پیدا ہوا ہے اور بھوتوں کے بادشاہ نے کِتاب لانے کیلئے اُس آدمی کو بھیجا جو اُس کے ساتھ دائیرے میں تھا (اِس یہ پتہ چلتا ہے کہ بزرگ آدمی نے ٹھیک کیا کہ بادشاہ کے ساتھ دوسرے آدمی کو اندر ہنے دیا دوسری صورت میں یہ کہ پھر وہ کون تھا جِسے اُس نے بھیجا تھا ) سو وہ کتاب لے آیا اور اُس بزرگ آدمی نے اُس کتاب کو کھولا اور دیکھا کہ وہاں ہزاروں ہزار دس ہزار خاندانوں کے نام لکھے ہوئے تھے بادشاہ نے یہ وعدہ کیا کہ وہ بزرگ آدمی کے خاندان کو پھر کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اُس نے بزرگ آدمی کو حُکم دیا کہ وہ اپنے خاندان کے تمام اراکین کی تصویریں کیکر آئے یہاں تک کہ اُس کی بھی جو نیا بچہ پیدا ہوا ہے اور اُنہوں نے فوراً اُس کے پاس تصویریں پُہنچا دیں سو اب کبھی بھی اُس بزرگ آدمی کے خاندان کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔
بعد میں ایسا ہوا کہ جب اُس بزرگ آدمی کا وقت نزدیک آیا کہ وہ اِس دنُیا سے وفات پائے تو اُس نے اپنے بیٹوں کو بُلایا کہ اپنی آخری وصیّت اُن کو سُنائے اور اُن کو بتائے کہ میں یہ کتاب تمہارے لیے چھوڑ دی ہے تم نے یہ دیکھا کہ میں اِس کِتاب کو سنجیدگی سے استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہوں پھر بھی میں نے اِسے استعمال نہیں کیا لیکن میرا خُدپر ایمان ہے وہ مُبارک ہو تمہیں بھی اِسے استعمال نہیں کرنا چائیے یہاں تک کہ اگر تمہارے درمیان ایسا کوئی ہو جو اُسے سنجیدگی سے استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو بھی اِسے استعمال نہیں کرنا چائیے اُس کا صرف خُدا پر ایمان ہونا چائیے وہ مُبارک ہو ۔ وہ بزرگ آدمی مر گیا اور یہ کتِاب اُس کے پوتے کی وراثت ہوگئی اُس کے پاس یہ طاقت تھی کہ اِسے سنجیدگی سے استعمال کر سکے لیکن اُس کا خُدا پر ایمان تھا وہ مُبارک ہو اور اُس نے اِسے استعمال نہیں کیا جیسا کہ اُس بزرگ آدمی نے حُکم دیا تھا ۔ اُن کے درمیان مقررین نے بزرگ آدمی کے پوتے کو پھسا نے کی کوشش کی۔
چونکہ آپ کی بیٹیاں بڑی ہیں اور اِن کی مدد کرنے اور اِن سے شادی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے لہٰذا کتِاب کا استعمال کرو وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اُسے بہکا رہے ہیں لیکن وہ سوچ رہا تھا ۔ اور اُس کے دِل نے اُسے مشورہ دیا ۔
کہ اُسے اپنے دادا کی قبر پر جانا چائیے سو اُس نے اپنے دادا سے یہ پوچھا کہ آپ ہمیں اپنی اِس وصیّت نامہ میں چھوڑ گئے کہ ہمیں اِس کتِاب کو استعمال نہیں کرنا چائیے بلکہ ہمیں صرف خُدا پر ہی ایمان رکھنا چائیے وہ مُبارک ہو لیکن اب میرا دِل مجھے بہکا رہا ہے کہ اِسے استعمال کروں ۔ اُس بچھڑے ہوئے بزرگ آدمی نے اُسے جواب دیا ( جو فوت ہو چکا تھا) اگرچہ تمہارے پاس اِسے سنجیدگی سے استعمال کرنے کی طاقت ہے تو بھی یہ بہتر رہیگا کہ تمہارا خُداپر ہی ایمان ہونا چائیے اور اِسے استعمال نہ کرو ۔ خُدا ہی تمہاری مدد کریگا اور اُس کے پوتے نے ایسا ہی کیا ۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اُس مُلک کا بادشاہ جہاں بزرگ آدمی کا پوتا رہتا تھا بیمار پڑگیا اور اُس نے تمام ڈاکٹروں کو بُلایا مگر وہ اُس کا علاج نہ ڈھونڈ سکے کیونکہ اُس مُلک میں زبردست گرمی کی وجہ سے ادویات کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ ( بادشاہ نے حُکم جاری کیا کہ یہودی اُس کے لئے دُعا کریں ) اور ہمارے ( بھوتوں کے ) بادشاہ نے کہا کہ چونکہ یہ پوتا اِس کتِاب کو سنجیدگی سے استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر وہ پھر بھی اِس کا استعمال نہیں کرتا( ہم اُس کے حق میں یہ کام کریں گے اور بادشاہ نے مجھے حُکم دیا کہ بادل بن جاؤ تاکہ بادشاہ کا علاج ہوسکے اُن ادویات سے جو وہ پہلے ہی سے لے رہ تھا )اور اُنہی ادویات سے جو وہ ابھی تک لے رہا تھا ۔اور پوتے کو اِن چیزوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ میں بادل بن گیا ہوں ( یہ سب اُس بادل نے قاصد کو بتایا) اور وہ بیٹا جس کی ٹانگوں میں پہلے طاقت نہیں تھی اُن کے پیچھے گیا اور یہ سب سُنا(اور وہ بادل کو بادشاہ کے پاس لائے بادشاہ نے اُنہیں حُکم دیا )کہ وہ طاقت حاصل کرے اور اُسے دوسرے بادشاہ کو واپس کردے(جو اُنہوں نے واپس لے لی تھی) اور اُنہیں نے اُسے طاقت واپس کر دی اور پھر اِن بھوتوں کا بیٹا واپس آ گیا ( جس کے ما ں باپ اُس کے پیچھے رو رہے تھے )وہ شدید درد میں اور طاقت کے بغیر واپس آیا کیونکہ اُنہوں نے وہاں اُس پر تشددُ کیا تھا وہ اُس جادوگر پر بہت غصے میں تھا جِس نے اُس پر اِتنا تشددُ کیا تھا اور اُس نے اپنے بیٹوں اور اپنے خاندان کو حُکم دیا کہ ہمیشہ جادوگر کے انتظار میں اس کی تاک میں رہو تا کہ اسے نقصان پہنچا سکوں۔ لیکن اُن کے درمیان مقررین تھے اور وہ گئے اور جادوگر سے کہا کہ وہ خبردار رہے کیونکہ وہ آپ کے خلاف آپ کی تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جادوگر نے جنگجوؤں کو تیار کیا اور دوسرے جادوگروں کو بُلایا جو خاندانوں کو جانتا تھا کہ اُن کے خلاف محافظ ہو وہ بیٹا مقررین کے ساتھ بُہت غصے میں تھا کیونکہ اُنہوں نے اُس کا راز جادوگر کے سانے کھول دیا تھا ۔
ایک مرتبہ یہ ہوا کہ اِس بیٹے کے خاندان کے افراد اور مقررین نے بادشاہ کے محافظ میں مُلاقات کی اِن کے خاندان کے افراد نے مقررین کے خلاف غلط الزام لگائے اور بادشاہ نے مقررین کو مار ڈالا مقررین جو باقی رہ گئے تھے بُہت غصے میں تھے اور اُنہوں نے تمام بادشاہوں کے درمیان بغاوت کا اظہار کیا ( بڑی جنگ کا)بھوتوں کو۔۔۔ قحط ۔۔۔ کمزوری۔۔۔ تلوار۔۔۔اور موت کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام بادشاہوں کے درمیان جنگیں ختم ہوگئیں اور اِس کی وجہ سے زلزلہ آیا تمام زمین ٹوٹ گئی اور درخت مکمل طور پر پانی سے سیراب ہوگیا اور اُن میں سے کوئی باقی نہ رہا (کوئی بھوت بھی )اور ایسا ہوا کہ وہ یہاں کبھی موجود ہی نہیں تھے ۔ ۔۔۔آمین ثم آمین ۔۔۔۔